بیوہ ماں کی دعا اور سیلابی علاقوں کی امداد
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ متاثرین سیلاب کو مختلف نوعیت کی امداد دی جائے گی۔ امدادی چیکس کی تقسیم کا عمل 17 اکتوبر سے شروع کر دیا جائے گا۔ لواحقین فوت شدگان کے لیے 10 لاکھ روپے، پکا گھر مکمل تباہ 10 لاکھ روپے،کچا گھر مکمل تباہ 5 لاکھ روپے، بڑے مویشی کا نقصان 5 لاکھ روپے، چھوٹے جانورکا نقصان 50 ہزار روپے، 20 ہزار روپے فی ایکڑ فصل میں 25 فی صد نقصان پر۔ اور دیگر اعداد و شمار اگرچہ خوبصورت جدولوں میں ٹھہرتے ہیں، مگر ان کے پس منظر میں، عزیز و اقارب بچھڑگئے، کھیت بہہ گئے، مکان گرگئے، مویشی انڈیا سے آئی ہوئی منہ زور لہروں کی نذر ہوگئے،کچھ دیہات ایسے اجڑے کہ ابھی تک ان میں پانی کھڑا ہے۔ حکومت پنجاب نے اعلان تو کر دیا ایک روزنامے میں خبر چھپ گئی کہ 17 تاریخ سے چیکس تقسیم کیے جائیں گے۔
خوشی کی لہر دوڑ جائے گی لیکن ذرا تصور کریں جیسے ہی وہ صبح آئے گی، دیہات کے مرد و زن، بوڑھے، نوجوان، بوڑھی اماں، چاچا، بہت سی بیوائیں اپنے شناختی کارڈ لے کر کسی کے ہاتھ میں اپنے گرے ہوئے مکان کی تصویر،کسی کے پاس اپنے کھیتوں کے کاغذ، ہاتھ میں لیے سرکاری دفتر کے باہر قطار لگی ہوئی نظر آئے گی۔ ارے سیلاب نے ان کو اتنا ستایا، بھوکا سلایا، پیرکی جوتیاں، کپڑے سب کچھ لے گیا۔
وہ مشکلیں کم نہ تھیں کہ اب یہ نئی افتاد آن پڑی کہ کسی سے افسر کہہ رہا ہے۔ بی بی ایک کاغذ کم ہے کل آنا ، چاچا تیری زمین کے کاغذ پورے نہیں، کل آنا، کسی سے کہا تمہارا مکان تو گرا مگر یہ دیوار ابھی کھڑی ہے، اس لیے پورے 10لاکھ نہیں مل سکتے، کسی سے کہتے ہوں گے تمہارے شوہرکا انتقال ہو گیا لیکن نکاح نامہ کہاں ہے؟ صاب، صاب! میری بات سنیں، پورا گاؤں اس نکاح کا گواہ ہے، سب سے پوچھ لیں۔ جب صاحب یہ کہے گا، نکاح نامہ لے کر کل آنا۔ پورے گاؤں والے گواہی کے لیے آواز بلند کر رہے ہوں گے، سب لوگ سن رہے ہوں گے، بس (صاحب) کو سنائی نہیں دے گا،کیونکہ اس نے جو کہہ دیا، بس کہہ دیا۔
بوڑھے بابا کے زمین کے کاغذات دیکھے اورکہا فارم بھرو اور تصدیق کرا کر کل آنا۔ اس طرح اگر ہر ایک نے کل آنا ہے تو اتنے دور گاؤں سے، درمیان کے بہتے ہوئے پانی گزر کر کہیں کشتی میں بیٹھ کر کہیں ننگے پاؤں پانی میں چل کر، کہیں رکشے کا کرایہ 500 یا 1000 روپے بھر کر کس کس طرح کی صعوبتوں، مشکلوں کے ساتھ یہ سائل قطار میں صبح سے شام تک کھڑے ہونے کے بعد جواب ملے کہ کل آنا، کیا ان پر گزرے گی۔
جس کا مکان گر کر ملبے کا ڈھیر بن گیا، چاچا سوالی بن کر کھڑا تھا، صاحب نے کہہ دیا ہوگا یا شاید کہتے ہوں گے فارم بھرو تصدیق کرا کر لاؤ۔ صاحب میرا مکان تو بہہ گیا۔ میرے پاس تو مکان کی گواہی کے لیے کوئی اینٹ بھی نہیں بچی۔ اب کیسے تصدیق کراؤں۔ اب تو واپسی کا کرایہ بھی نہیں ہے، کل کیسے آؤں؟
کیا اچھا ہوتا کہ پنجاب سرکار خود گاؤں کے دروازوں پر آتی۔ اگر سرکاری گاڑی، گرے مکان کے ملبے کے سامنے رکتی۔ رونی صورت، غم گیر لہجے والے مایوس چہرے والے چاچا کو بلاتی اور کہتی کہ سرکار کو تسلی ہو گئی۔ بھارت کی بھیجی ہوئی قدآدم سے بھی اونچی لہروں نے مکان بھی گرا دیا اور ان دشمن لہروں نے مال و اسباب بھی چرا لیا۔
حکومت کو پوری گواہی بھی مل گئی، تصدیق بھی ہو گئی، چاچا یہ لو10 لاکھ کا چیک اور بینک جا کر کیش کرا لو۔ چاچا شاید یہ کہے کہ آپ کا بہت شکریہ اور صاحب لوگ ہو سکتا ہے یہ کہہ دیں کہ نہیں چاچا بس ایک بار مسکرا دو، ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ کیا خوب منظر ہو سکتا تھا جب کسان کے چہرے پر پہلی بار شکایت کے بجائے شکر ہوتا۔ امداد قطاروں میں کھڑے ہو کر تیز دھوپ بارش برداشت کرکے، بھوکے پیاسے ملتجی نظروں سے دیکھنے کے بجائے سیلاب متاثرین کو عزت کے ساتھ اس کے ٹوٹے ہوئے دروازے پر مل جاتی۔ یہ صرف مالی مدد نہیں ہوتی بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی مایوسی، مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتی اور خوشیوں کے ترانے بجا دیتی۔ مسکراہٹیں چہروں پر سجا دیتی۔
کہا گیا کہ فصلوں کے نقصان پر 20 ہزار فی ایکڑ معاوضہ دیا جائے گا اور اسے 25 فی صد نقصان سمجھ کر دیا جائے گا جس کے پورے کھیتوں میں پانی کھڑا ہے۔ اگلی فصل بونے کی امید ختم ہوگئی ہے اسے سہارا دیں کھیتوں سے پانی نکالنے کا انتظام کریں، گارے مٹی،کیچڑ سے کھیت لت پت ہو گئے۔
گندے پانی کی نکاسی کے انتظام کے لیے حکومت فوری مدد کا اعلان کرتی کہ کھیت بیج بونے، ہل چلانے کے قابل بنا دیا ہے۔ یہ رقم ایک لاکھ ابھی کھیت پرکھڑے ہو کر لیں اور اصلی بیج اور کھاد بھی فراہم کر دیا ہے۔ اب یہ جو بیج دیے گئے ہیں یہ سیلابی پانی کی نمی کو برداشت کرنے والے بیج ہیں، عام بیج نہیں ہیں۔ ان کو بو کر اپنی زمین کو سنوارو، گندم کی فصل بونے کا وقت گزرا جا رہا ہے، جلد از جلد یہ کام کر گزرو۔
پنجاب کے کسان متاثرہ علاقوں کے لوگ آج بھی اس امید کے سہارے زندہ ہیں کہ موجودہ حکومت صرف اعلان نہ کرے بلکہ ان کے دروازوں پر دستک دے۔ اس سلسلے میں غالباً ان بیٹیوں کے لیے کسی امداد کا ذکر نہیں جن کے زیور، جہیز کا ساز و سامان سیلاب کی نذر ہو گئے۔ مگر حکومت کی کسی فہرست میں شاید جہیز کا خانہ نہ تھا، اگر ہو تو فی الحال یہ ناچیز اس سے لاعلم ہے۔ جب افسر کے پاس کسی ماں نے جہیز اور زیورات کے گم ہونے کی عرضی دی ہوگی تو شاید افسر نے کہا ہو، اماں یہ نقصان کس مد میں لکھوں؟ نہ مویشی کا ہے نہ گھر کے ٹوٹنے کا ہے۔ آخر کس مد میں اسے ڈالوں؟
اماں نے دکھ بھرے لہجوں میں کہا ہوگا یہ نقصان نہ کھیت کا ہے نہ گھر کا ہے نہ مال مویشی کا ہے یہ تو ماں کے اجڑے ہوئے دکھ بھرے دل کا ہے جس کی کوئی مد نہیں ہوتی، نہ کوئی حد ہوتی ہے۔
یہ تو ایک بیٹی کے خواب تھے جو ایک بیوہ ماں نے برسوں جوڑنے میں گزار دیے، چند زیورات چند برتن، کچھ کپڑے اور ایک آئینہ جس میں ایک ماں بیٹی کا مستقبل دیکھ لیتی تھی وہ سب بھارت سے آئے ہوئے سیلابی لٹیرے پانی لوٹ کر لے گئے۔ ایک بیٹی اور ماں کے دکھ کو شاید وزیر اعلیٰ پنجاب محسوس کر لے اور ایسی بچیوں کی شادی کا انتظام کرنے کا بھی حکم دے دے۔ شاید 17 اکتوبر سے پہلے ماں کے درد اور بیٹی کی چیخیں لکھنے کا کوئی خانہ، کوئی پیراگراف لکھنے کا حکم صادر ہو جائے۔ پانی بہہ گیا، مگر بیوہ ماں کی دعا اس حکومت کو دینے کے انتظار میں بیٹھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاکھ روپے کر دیا کے لیے کل آنا ہوں گے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔