Express News:
2026-06-02@22:58:50 GMT

بیوہ ماں کی دعا اور سیلابی علاقوں کی امداد

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ متاثرین سیلاب کو مختلف نوعیت کی امداد دی جائے گی۔ امدادی چیکس کی تقسیم کا عمل 17 اکتوبر سے شروع کر دیا جائے گا۔ لواحقین فوت شدگان کے لیے 10 لاکھ روپے، پکا گھر مکمل تباہ 10 لاکھ روپے،کچا گھر مکمل تباہ 5 لاکھ روپے، بڑے مویشی کا نقصان 5 لاکھ روپے، چھوٹے جانورکا نقصان 50 ہزار روپے، 20 ہزار روپے فی ایکڑ فصل میں 25 فی صد نقصان پر۔ اور دیگر اعداد و شمار اگرچہ خوبصورت جدولوں میں ٹھہرتے ہیں، مگر ان کے پس منظر میں، عزیز و اقارب بچھڑگئے، کھیت بہہ گئے، مکان گرگئے، مویشی انڈیا سے آئی ہوئی منہ زور لہروں کی نذر ہوگئے،کچھ دیہات ایسے اجڑے کہ ابھی تک ان میں پانی کھڑا ہے۔ حکومت پنجاب نے اعلان تو کر دیا ایک روزنامے میں خبر چھپ گئی کہ 17 تاریخ سے چیکس تقسیم کیے جائیں گے۔

خوشی کی لہر دوڑ جائے گی لیکن ذرا تصور کریں جیسے ہی وہ صبح آئے گی، دیہات کے مرد و زن، بوڑھے، نوجوان، بوڑھی اماں، چاچا، بہت سی بیوائیں اپنے شناختی کارڈ لے کر کسی کے ہاتھ میں اپنے گرے ہوئے مکان کی تصویر،کسی کے پاس اپنے کھیتوں کے کاغذ، ہاتھ میں لیے سرکاری دفتر کے باہر قطار لگی ہوئی نظر آئے گی۔ ارے سیلاب نے ان کو اتنا ستایا، بھوکا سلایا، پیرکی جوتیاں، کپڑے سب کچھ لے گیا۔

وہ مشکلیں کم نہ تھیں کہ اب یہ نئی افتاد آن پڑی کہ کسی سے افسر کہہ رہا ہے۔ بی بی ایک کاغذ کم ہے کل آنا ، چاچا تیری زمین کے کاغذ پورے نہیں، کل آنا، کسی سے کہا تمہارا مکان تو گرا مگر یہ دیوار ابھی کھڑی ہے، اس لیے پورے 10لاکھ نہیں مل سکتے، کسی سے کہتے ہوں گے تمہارے شوہرکا انتقال ہو گیا لیکن نکاح نامہ کہاں ہے؟ صاب، صاب! میری بات سنیں، پورا گاؤں اس نکاح کا گواہ ہے، سب سے پوچھ لیں۔ جب صاحب یہ کہے گا، نکاح نامہ لے کر کل آنا۔ پورے گاؤں والے گواہی کے لیے آواز بلند کر رہے ہوں گے، سب لوگ سن رہے ہوں گے، بس (صاحب) کو سنائی نہیں دے گا،کیونکہ اس نے جو کہہ دیا، بس کہہ دیا۔

بوڑھے بابا کے زمین کے کاغذات دیکھے اورکہا فارم بھرو اور تصدیق کرا کر کل آنا۔ اس طرح اگر ہر ایک نے کل آنا ہے تو اتنے دور گاؤں سے، درمیان کے بہتے ہوئے پانی گزر کر کہیں کشتی میں بیٹھ کر کہیں ننگے پاؤں پانی میں چل کر، کہیں رکشے کا کرایہ 500 یا 1000 روپے بھر کر کس کس طرح کی صعوبتوں، مشکلوں کے ساتھ یہ سائل قطار میں صبح سے شام تک کھڑے ہونے کے بعد جواب ملے کہ کل آنا، کیا ان پر گزرے گی۔

جس کا مکان گر کر ملبے کا ڈھیر بن گیا، چاچا سوالی بن کر کھڑا تھا، صاحب نے کہہ دیا ہوگا یا شاید کہتے ہوں گے فارم بھرو تصدیق کرا کر لاؤ۔ صاحب میرا مکان تو بہہ گیا۔ میرے پاس تو مکان کی گواہی کے لیے کوئی اینٹ بھی نہیں بچی۔ اب کیسے تصدیق کراؤں۔ اب تو واپسی کا کرایہ بھی نہیں ہے، کل کیسے آؤں؟

کیا اچھا ہوتا کہ پنجاب سرکار خود گاؤں کے دروازوں پر آتی۔ اگر سرکاری گاڑی، گرے مکان کے ملبے کے سامنے رکتی۔ رونی صورت، غم گیر لہجے والے مایوس چہرے والے چاچا کو بلاتی اور کہتی کہ سرکار کو تسلی ہو گئی۔ بھارت کی بھیجی ہوئی قدآدم سے بھی اونچی لہروں نے مکان بھی گرا دیا اور ان دشمن لہروں نے مال و اسباب بھی چرا لیا۔

حکومت کو پوری گواہی بھی مل گئی، تصدیق بھی ہو گئی، چاچا یہ لو10 لاکھ کا چیک اور بینک جا کر کیش کرا لو۔ چاچا شاید یہ کہے کہ آپ کا بہت شکریہ اور صاحب لوگ ہو سکتا ہے یہ کہہ دیں کہ نہیں چاچا بس ایک بار مسکرا دو، ہمارے لیے یہی کافی ہے۔ کیا خوب منظر ہو سکتا تھا جب کسان کے چہرے پر پہلی بار شکایت کے بجائے شکر ہوتا۔ امداد قطاروں میں کھڑے ہو کر تیز دھوپ بارش برداشت کرکے، بھوکے پیاسے ملتجی نظروں سے دیکھنے کے بجائے سیلاب متاثرین کو عزت کے ساتھ اس کے ٹوٹے ہوئے دروازے پر مل جاتی۔ یہ صرف مالی مدد نہیں ہوتی بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی مایوسی، مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتی اور خوشیوں کے ترانے بجا دیتی۔ مسکراہٹیں چہروں پر سجا دیتی۔

کہا گیا کہ فصلوں کے نقصان پر 20 ہزار فی ایکڑ معاوضہ دیا جائے گا اور اسے 25 فی صد نقصان سمجھ کر دیا جائے گا جس کے پورے کھیتوں میں پانی کھڑا ہے۔ اگلی فصل بونے کی امید ختم ہوگئی ہے اسے سہارا دیں کھیتوں سے پانی نکالنے کا انتظام کریں، گارے مٹی،کیچڑ سے کھیت لت پت ہو گئے۔

گندے پانی کی نکاسی کے انتظام کے لیے حکومت فوری مدد کا اعلان کرتی کہ کھیت بیج بونے، ہل چلانے کے قابل بنا دیا ہے۔ یہ رقم ایک لاکھ ابھی کھیت پرکھڑے ہو کر لیں اور اصلی بیج اور کھاد بھی فراہم کر دیا ہے۔ اب یہ جو بیج دیے گئے ہیں یہ سیلابی پانی کی نمی کو برداشت کرنے والے بیج ہیں، عام بیج نہیں ہیں۔ ان کو بو کر اپنی زمین کو سنوارو، گندم کی فصل بونے کا وقت گزرا جا رہا ہے، جلد از جلد یہ کام کر گزرو۔

 پنجاب کے کسان متاثرہ علاقوں کے لوگ آج بھی اس امید کے سہارے زندہ ہیں کہ موجودہ حکومت صرف اعلان نہ کرے بلکہ ان کے دروازوں پر دستک دے۔ اس سلسلے میں غالباً ان بیٹیوں کے لیے کسی امداد کا ذکر نہیں جن کے زیور، جہیز کا ساز و سامان سیلاب کی نذر ہو گئے۔ مگر حکومت کی کسی فہرست میں شاید جہیز کا خانہ نہ تھا، اگر ہو تو فی الحال یہ ناچیز اس سے لاعلم ہے۔ جب افسر کے پاس کسی ماں نے جہیز اور زیورات کے گم ہونے کی عرضی دی ہوگی تو شاید افسر نے کہا ہو، اماں یہ نقصان کس مد میں لکھوں؟ نہ مویشی کا ہے نہ گھر کے ٹوٹنے کا ہے۔ آخر کس مد میں اسے ڈالوں؟

اماں نے دکھ بھرے لہجوں میں کہا ہوگا یہ نقصان نہ کھیت کا ہے نہ گھر کا ہے نہ مال مویشی کا ہے یہ تو ماں کے اجڑے ہوئے دکھ بھرے دل کا ہے جس کی کوئی مد نہیں ہوتی، نہ کوئی حد ہوتی ہے۔

یہ تو ایک بیٹی کے خواب تھے جو ایک بیوہ ماں نے برسوں جوڑنے میں گزار دیے، چند زیورات چند برتن، کچھ کپڑے اور ایک آئینہ جس میں ایک ماں بیٹی کا مستقبل دیکھ لیتی تھی وہ سب بھارت سے آئے ہوئے سیلابی لٹیرے پانی لوٹ کر لے گئے۔ ایک بیٹی اور ماں کے دکھ کو شاید وزیر اعلیٰ پنجاب محسوس کر لے اور ایسی بچیوں کی شادی کا انتظام کرنے کا بھی حکم دے دے۔ شاید 17 اکتوبر سے پہلے ماں کے درد اور بیٹی کی چیخیں لکھنے کا کوئی خانہ، کوئی پیراگراف لکھنے کا حکم صادر ہو جائے۔ پانی بہہ گیا، مگر بیوہ ماں کی دعا اس حکومت کو دینے کے انتظار میں بیٹھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لاکھ روپے کر دیا کے لیے کل آنا ہوں گے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا