کراچی؛ واٹر ٹینکر کے ذریعے چھالیہ اسمگلنگ کے ملزمان کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے واٹر ٹینکر کے ذریعے چھالیہ اسمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار ملزمان کی درخواست ضمانت منظور لرلی۔
واٹر ٹینکر کے ذریعے چھالیہ کی اسمگلنگ کی مقدمے میں ٹینکر ڈرائیور اور کلینر کی درخواست ضمانت کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی، جس میں عدالت نے ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے ملزمان کو ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیدیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ گرفتار ملزمان ٹینکر کے مالکان نہیں ہیں۔ ملزمان نے نہ ہی برآمد چھالیہ کی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔
درخواستگزاروں کے وکیل نے مؤقف دیاتھا کہ ڈرایئور اور کلینر دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔ ملزمان کا اسمگلنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کسٹمز حکام نے حب ریور روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے واٹر ٹینکر کے خفیہ خانوں میں چھپائی گئی 1200 کلو چھالیہ برآمد کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واٹر ٹینکر کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔