Daily Sub News:
2026-06-03@05:22:52 GMT

جسٹس (ر) جنید غفار کمپٹیشن اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین مقرر

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

جسٹس (ر) جنید غفار کمپٹیشن اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین مقرر

جسٹس (ر) جنید غفار کمپٹیشن اپیلٹ ٹریبونل کے چیئرمین مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 13 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) محمد جنید غفار کو کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل کا چیئرمین تعینات کردیا۔

کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل ایک قانونی ادارہ ہے جو کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کرتا ہے۔ اس سے قبل کمپٹیشن اپلیٹ ٹربیونل کے چئیرمین جسٹس (ر) سجاد علی شاہ 13اگست 2025 کو 68 سال کی عمر مکمل ہونے پر ریٹائر ہوگئے تھے جنہیں 25فروری 2025 کو ٹربیونل کا چئیرمین مقرر کیا گیا تھا۔

اپنے مختصر مگر فعال تعیناتی کے دوران انہوں نے ٹربیونل میں زیرِ التوا مقدمات میں سے تقربیاً 50 فیصد مقدمات کے فیصلے کیے اور بیک لاگ میں نمایاں کمی کی۔

جسٹس جنید غفار ایک تجربہ کار سینئر جج ہیں جنہیں آئینی اور تجارتی قوانین پر عبور حاصل ہے۔ وہ 2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے، 2015 میں مستقل جج بنے اور بعد ازاں 14 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس جب کہ 8 جولائی 2025 کو سندھ ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس تعینات ہوئے۔

انہوں نے 13 ستمبر 2025 کو چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لی۔ عدالتی خدمات کے دوران انہوں نے آئینی، تجارتی اور سول مقدمات میں اہم فیصلے دیے۔

کمپٹیشن اپیلٹ ٹربیونل، کمپٹیشن ایکٹ کے تحت قائم ایک عدالت ہے جہاں کمپٹیشن کمیشن کے فیصلوں، جرمانوں اور احکامات کے خلاف اپیلیں سنی جاتی ہیں۔ یہ ادارہ ملک میں منصفانہ مسابقت کے فروغ، شفافیت اور کاروباری اداروں کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

جسٹس (ر) جنید غفار کے تقرر سے توقع ہے کہ ٹربیونل میں عدالتی معیار، کارکردگی اور کمپٹیشن کے قانون کی تشریح میں مزید بہتری آئے گی۔ ٹربیونل کے دیگر 2 ممبران میں ڈاکٹر فیض الہی میمن اور عاصم اکرم شامل ہیں، جنہیں فروری 2025 میں تعینات کیا گیا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگورنر نے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی قرار دیدیا، اپوزیشن کا چیلنج کرنے کا اعلان گورنر نے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر آئینی قرار دیدیا، اپوزیشن کا چیلنج کرنے کا اعلان پنجاب: پہلی بار اینٹوں کے بھٹوں کی ماحولیاتی کمپلائنس رپورٹ جاری راولپنڈی میں 4 روز بعد تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز کھل گئے غزہ امن معاہدے پر 20 ملکی سربراہی اجلاس، وزیراعظم شہباز شریف مصر روانہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کے ساتھ کاروبار کا آغاز وزیراعلیٰ کے انتخاب سے پہلے بڑی ہلچل، علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ پر اعتراض TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کمپٹیشن اپیلٹ جنید غفار

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے