نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حلف کا معاملہ، پشاور ہائیکورٹ نے کل تک جواب طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پشاور ہائیکورٹ نے نو منتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی حلف برداری کے لیے درخواست پر کل تک جواب طلب کرلیا۔
پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور آئینی طور پر گورنر کو استعفیٰ ارسال کر چکے ہیں، جس کے بعد نئے قائد ایوان کا انتخاب بھی کرلیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب، اب کوئی ملٹری آپریشن نہیں کر پائےگا، ایوان میں پہلا خطاب
دوران سماعت سینیئر قانون دان و پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیے کہ علی امین گنڈاپور نے بطور وزیر اعلیٰ استعفیٰ دے دیا جس کی تصدیق اسمبلی فلور پر کردی۔
انہوں نے کہاکہ آج نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگیا ہے، چیف جسٹس کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ علی امین گنڈا پور نے دوبارہ استعفیٰ کیوں دیا؟ جس پر سلمان اکرم راجا نے کہاکہ پہلے استعفیٰ نہ ملنے کے بعد تصدیق کے لیے دوبارہ استعفیٰ لکھا گیا، اب ہم گورنر کی واپسی کا انتظار نہیں کرسکتے۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیاکہ انہوں نے کوئی پیٹیشن دائر نہیں کی۔ ’ان کو کیا جلدی ہے، گورنر کی واپسی کا انتظار کریں۔‘
چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ آپ گورنر سے پوچھ لیں کہ استعفیٰ کیوں نہیں منظور کیا گیا، پھر ہمیں بتائیں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل دفتر سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر کے اعتراض کے باوجود خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب، آگے کیا ہوگا؟
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی 90 ووٹ لے کر نئے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں، تاہم اپوزیشن نے اس عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب حلف کا معاملہ سہیل آفریدی علی امین گنڈاپور استعفیٰ نومنتخب وزیراعلیٰ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جواب طلب حلف کا معاملہ سہیل ا فریدی علی امین گنڈاپور استعفی نومنتخب وزیراعلی وی نیوز نئے وزیراعلی سہیل ا فریدی علی امین کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔