تحریک لبیک امیرسعد اور انس رضوی کا سراغ مل گیا، پولیس کا گھیرا تنگ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہیں بچی، کارروائی قانونی دائرے میں رہے گی، گرفتاری ہر صورت ہو گی
خود کو قانون کے حوالے کریں، زخمی ہیں تو ریاست طبی سہولیات فراہم کرے گی، پولیس ذرائع
پولیس نے صرف ایک دن کی روپوشی کے بعد تحریک لبیک کے امیر حافظ سعد رضوی اور انکے بھائی انس رضوی کا سراغ لگا لیا ہے۔مریدکے میں پرتشدد احتجاج کے دوران دونوں رہنما اچانک منظرِ عام سے غائب ہوگئے تھے، جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری حرکت میں آئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کی گرفتاری اب محض وقت کی بات ہے کیونکہ خفیہ ذرائع اور ٹیکنیکل ٹریکنگ کی مدد سے ان کا ٹھکانہ معلوم کر لیا گیا ہے۔سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور کارروائی کے لیے تیار کھڑے ہیں، حکام نے دونوں رہنماؤں کو پرامن طریقے سے خودسپردگی کی ہدایت کی ہے۔پولیس کے مطابق اگر وہ زخمی ہیں تو ریاست طبی سہولیات فراہم کرے گی، بشرطیکہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں۔ تاحال ان کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی اور گرفتاری سے بچنے کی کوشش بھی ایک دن سے زیادہ نہ چل سکی۔پولیس کا کہنا ہے کہ چھپنے کی کوئی جگہ باقی نہیں بچی، کارروائی قانونی دائرے میں رہے گی، مگر گرفتاری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کا دائرہ محدود کر دیا گیا ہے، پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے ان کی معاونت کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ریاست نے نرمی کا دروازہ کھلا رکھا ہے، مگر قانون سے بھاگنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اب فیصلہ حافظ سعد اور انس رضوی کو کرنا ہے، مزاحمت یا خود سپردگی؟دوسری جانب، پولیس کی جانب سے مریدکے میں احتجاج سے فرار ہونے والے ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی سمیت دیگر رہنماوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے جبکہ متعدد ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی کی کارروائی منظم تشدد کا حصہ تھی جس میں قیادت نے ہجوم کو اکسانے کا کردار ادا کیا اور پھر فرار ہو کر شہریوں اور ریاست کو خطرے میں ڈال دیا۔ ہتھیار چھیننا، پیٹرول بم اور گاڑیاں جلانا کسی بھی طرح پرامن احتجاج نہیں کہلاتا اور ایسے عناصر کو قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ
فائل فوٹوامن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ اضافی سیکیورٹی کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان جاری کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل روڈ پر 5 اضافی پکٹس قائم کردی گئی ہیں، داہگل ناکہ، گیٹ ون، گیٹ 5، فیکٹری ناکہ اور گورکھ پور پر اضافی نفری تعینات رہے گی۔
وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ میں تمام آئینی اور قانونی راستے اپنا چکا ہوں، ایسا کونسا راستہ بچا ہے جس کے بعد میں اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکوں۔
پولیس ذرائع کے مطابق پولیس افسران اور اہلکاروں کی ڈیوٹی 12، 12 گھنٹے کی دو شفٹوں میں تقسیم کی گئی ہے، 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز اور خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات رہیں گی۔
پولیس حکام کے مطابق مجموعی طور پر اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکیورٹی پر 700 سے زائد اہلکار و افسر تعینات رہیں گے، سیکیورٹی پر مامور اہلکار اینٹی رائٹ سامان سے لیس ہوں گے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کی براہ راست نگرانی ایس پی صدر انعم شیر کریں گی جبکہ اڈیالہ گارڈز کی نفری کو اسٹینڈ بائی رکھا جائے گا۔