ہانگ کانگ ایئر پورٹ پر کارگو طیارے کا حادثہ، دو ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 اکتوبر 2025ء) بوئنگ 747 طرز کا یہ مال بردارطیارہ متحدہ عرب امارات میں دبئی سے ہانگ کانگ پہنچا تھا اور لینڈنگ کے دوران رن وے سے پھسل کر سمندر میں جا گرا۔ مقامی میڈیا کی جاری کردہ ویڈیوز میں اس طیارے کو آدھا پانی میں ڈوبا ہوا دیکھا جا سکتا تھا، جبکہ اس کا آخری حصہ مکمل طور پر اس طیارے سے الگ ہو چکا تھا۔
رن وے کے قریب گاڑی سے ٹکرلینڈنگ کے وقت پیش آنے والے حادثے کے دوران اس مال بردار طیارے نے ایک ایسی گاڑی کو ٹکر بھی مار دی، جو تب رن وے کے قریب گشت پر تھی۔ یہ گاڑی بھی سمندر میں جا گری اور اس میں موجود دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
کارگو طیارے میں موجود عملے کے تمام چاروں ارکان کو سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا اور ان میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔
(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں کوئی کارگو نہیں تھا۔ ہانگ کانگ ایئر پورٹ کی انتظامیہ کے مطابق موسم لینڈنگ کے لیے موزوں تھا۔ ہانگ کانگ کی فضائی حادثات سے متعلق اتھارٹی اس حادثے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے شمالی رن وے پر پیش آنے والےاس حادثے کا وہاں مسافر پروازوں کے شیڈول پر کوئی خاص اثر نہ پڑا۔ ہوائی اڈے کی ویب سائٹ پر ابتدائی طور پر کسی بڑی تاخیر یا پروازوں کی منسوخی کی بھی کوئی اطلاعات پوسٹ نہیں کی گئی تھیں۔
ادارت: مقبول ملک
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہانگ کانگ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔