پسندیدہ فیلڈ مارشل سے نئی دوستی تک، پاکستان نے امریکا کا دل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات ایک نئی سمت اختیار کر گئے ہیں۔ واشنگٹن میں کبھی شک و شبہات کی نذر رہنے والا اسلام آباد، اب ٹرمپ انتظامیہ کی نظروں میں ایک اہم شراکت دار بن چکا ہے اور اس تبدیلی کا محور ہے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی چابک دستی، نرمی اور نادر معدنیات (rare earths) کی سفارتکاری۔
خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس میں وزیرِاعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات کے دوران، پاکستان نے ناصرف ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ میں امن اقدامات کی بھرپور تعریف کی بلکہ انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان بھی کیا۔
مزید پڑھیں: صرف پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف جانتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کیسے ڈیل کرنا ہے، برطانوی اخبار
اسی موقع پر ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیا، ایک ایسا جملہ جو پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نئی گرمجوشی کی علامت بن گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ کے دوسرے دور میں امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے ایک منفرد حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ تعریف، تزویراتی تعاون اور معدنی وسائل کی پیشکش۔ اسلام آباد نے واشنگٹن کو نایاب معدنیات تک رسائی کی یقین دہانی کرائی ہے جو چین کے کنٹرول سے باہر ہیں، اور امریکی دفاعی و صنعتی شعبے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
نتیجتاً، پاکستان کو نئے دفاعی معاہدے، کم ٹیرف، اور رے تھیون میزائلوں کی فروخت جیسے فوائد حاصل ہو رہے ہیں، جبکہ بھارت ٹرمپ انتظامیہ کی ناراضی اور بھاری محصولات کا سامنا کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے وعدے پر شکر گزار ہیں کہ وہ انسانی المیے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدام کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف
فیلڈ مارشل منیر کے کردار پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے۔ وہ وہی شخصیت ہیں جنہوں نے رواں سال مئی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران مؤثر فوجی قیادت کا مظاہرہ کیا تھا۔ واشنگٹن میں ان کی موجودگی اور براہِ راست ملاقات نے امریکا کو پاکستان کے فیصلہ کن کردار کا احساس دلایا ہے۔
سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ ٹرمپ، جو تعریف اور تیزی سے فیصلے کرنے والے ’جیتنے والے‘ رہنماؤں کو پسند کرتے ہیں، منیر میں اپنی سوچ کی عکاسی دیکھتے ہیں۔ واشنگٹن میں موجود سابق سفیر حسین حقانی کے مطابق ’ٹرمپ کو پاکستان اس لیے پسند ہے کیونکہ پاکستان نے انہیں پسند کیا، سراہا، اور نوبیل انعام کے قابل ٹھہرایا۔‘
اسلام آباد میں حکومت اس نئی دوستی کو معاشی اور سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے اور بظاہر ٹرمپ بھی اس گرمجوشی سے خوش دکھائی دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور امریکا پسندیدہ فیلڈ مارشل خبر رساں ادارہ سی این این فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور امریکا پسندیدہ فیلڈ مارشل خبر رساں ادارہ سی این این فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیراعظم شہباز شریف فیلڈ مارشل امریکی صدر شہباز شریف پاکستان نے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم