آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کے روز پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور پرتشدد رجحانات دیکھ رہی ہے، جہاں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب کی قیادت میں خطہ امن کی نئی سمت کی جانب گامزن

انہوں نے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، اور حالیہ پاکستان-سعودی عرب اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ دونوں ممالک کی برادرانہ تعلقات کی تجدید اور خطے میں امن کے قیام کی ضمانت ہے، پاکستانی عوام اور افواج کے لیے یہ فخر کا لمحہ ہے کہ ہم حرمین شریفین کے دفاع کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کر رہے ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں میں درجنوں ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ تنازع کے حل کے لیے سعودی عرب اور قطر نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، جب کہ قطری دارالحکومت دوحہ میں دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

گزشتہ روز دفتر خارجہ نے بھی سعودی عرب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی قیادت نے خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان سعودی عرب معاہدہ کیا کچھ بدل سکتا ہے؟

ترجمان دفتر خارجہ شفقات علی خان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب طویل عرصے سے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے محافظ اور قریبی اتحادی ہیں، اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے مؤقف پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 18 ستمبر کو ریاض میں دستخط ہونے والا یہ معاہدہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے دوران طے پایا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرمی چیف پاک سعودی معاہدہ دفاع سعودی عرب فیلڈ مارشل عاصم منیر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف پاک سعودی معاہدہ دفاع فیلڈ مارشل عاصم منیر فیلڈ مارشل عاصم منیر سعودی عرب کے پاکستان اور دونوں ممالک کے درمیان کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار