مودی کی ہندوتوا پالیسی؛ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کی نئی لہر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
بھارت میں بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندوتوا پالیسی کے تحت مسلمانوں کے خلاف تشدد کی لہر بڑھتی جا رہی ہے۔
نریندر مودی اور ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسیوں نے بھارت کو انتہا پسندی کا گڑھ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے بھارت کے سیکولر ازم کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔
مودی راج میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی جاری ہے اور اقلیتوں کے مذہبی و اقتصادی حقوق انتہا پسندوں کے نشانے پر ہیں۔ وزیر اعلی ٰاتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے مسلم مخالف اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اب مسلمانوں کے کھانے اور مذہبی آزادی پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے گورکھپور میں آر ایس ایس کی صد سالہ تقریب جشن سے نفرت انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش میں حلال سرٹیفائیڈ مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حلال مصنوعات کے منافع کو مذہب کی تبدیلی، جِہاد اور دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کیا جا تا ہے۔
مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اسلام نے بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور آبادی کا توازن بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے سیاسی اسلام کے خلاف بڑی جدوجہد کی، مگر تاریخ کا یہ سچ چھپایا گیا ہے۔ مذہب اسلام آج بھی بھارت کے امن اور ہم آہنگی کے دشمن کے طور پر سرگرم ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کے بعد بھارت میں تشدد کی نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے، جہاں رامپور ، بہار میں انتہاپسند ہندوتوا ہجوم نے ایک مسجد پر حملہ کیا ہے اور قرآن پاک کی بےحرمتی کی ہے۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ماضی میں بھی مسلمانوں کے خلاف متنازع بیانات اور اقدامات کیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یوگی حکومت کی بلڈوزر پالیسی کے تحت 2017ء سے اب تک ہزاروں مسلم خاندانوں کے مکانات مسمار کیے جا چکے ہیں۔
مودی راج میں مذہبی انتہا پسندی اور مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارتی سیکولر ازم کے دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسلمانوں کے خلاف یوگی آدتیہ ناتھ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔