Jasarat News:
2026-06-03@03:19:55 GMT

بدلے کی آگ میں جلتا مودی خطے کے امن کے لیے خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد مودی حَواس باختَہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں الیکشن مہم میں مودی کا یہ بیان کہ ’’میں بدلے کی آگ میں جل رہا ہوں، پاکستانی آرمی چیف میرا اصل ٹارگٹ ہے‘‘۔ یہ جملہ صرف سیاسی غصے کا اظہار نہیں بلکہ اس احساسِ ہزیمت کی جھلک ہے جو پاکستان کی عسکری کامیابیوں نے بھارت کے دل میں پیدا کی ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ وہ ہر سازش، ہر پروپیگنڈا اور ہر دبائو کے باوجود پاکستان کو کمزور نہیں کر سکے۔ رافیل کا غرور خاک میں ملنا مودی کے تکبر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ بھارت کے وزیر ِاعظم نریندر مودی کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا کہ ’’میں بدلے کی آگ میں جل رہا ہوں‘‘ اور اشارہ پاکستان کی عسکری قیادت کی جانب تھا، اسی ذہنی انتشار، شکست خوردگی اور نفرت کے اس سفر کی تازہ قسط ہے۔ اگرچہ بھارتی حکومت کے سرکاری ذرائع اس جملے کی براہِ راست تصدیق نہیں کرتے، مگر مودی کی تقاریر اور بیانات میں حالیہ دنوں جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا ہے وہ اس جذبہ ٔ انتقام اور شدت پسندی کا کھلا مظہر ہے۔ اس طرح کے بیانات محض سیاسی اشتعال نہیں بلکہ ایک خطرناک نظریے کی علامت ہیں جو بھارت کو امن کے راستے سے مزید دور لے جا رہے ہیں۔

مودی کے سیاسی نظریے کی بنیاد ہندوتوا پر ہے، جہاں طاقت، تشدد اور مذہبی برتری کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہی سوچ انہیں ہر اس قوت کے خلاف بھڑکاتی ہے جو بھارت کے ’’عظیم اکھنڈ ہندو راشٹر‘‘ کے خواب میں رکاوٹ بنے۔ پاکستان ہمیشہ سے اس نظریے کا سب سے بڑا ہدف رہا ہے، کیونکہ مودی کی سیاست نفرت کے اس ایندھن سے ہی جلتی ہے۔ مودی کی حکومت نے اپنے اقتدار کے دوران کبھی سرجیکل اسٹرائیک، پہل گام واقعہ اور کبھی پلوامہ کے نام پر عوام کے جذبات بھڑکائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو آج بھی اپنے اندرونی تضادات، غربت، اور گرتی ہوئی معیشت کے مقابلے میں کوئی ٹھوس کامیابی نہیں ملی۔ جب اندرونی محاذ پر ناکامی بڑھتی ہے تو سیاست دان عوام کی توجہ بیرونی دشمن کی طرف موڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی مودی کی نفسیات کی اصل جڑ ہے۔ رافیل طیاروں کے سودے سے لے کر کسانوں کی تحریک تک، مودی حکومت نے عوامی سطح پر کئی بحرانوں کا سامنا کیا۔ ان کی معاشی پالیسیوں نے متوسط طبقے کو مایوسی میں دھکیل دیا۔ مگر ان تمام ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مودی نے ہمیشہ پاکستان مخالف بیانات کو ایک نیا رنگ دیا۔ حالیہ بیان بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے، جو ان کے اندرونی دباؤ اور عالمی سطح پر کمزور ہوتے امیج کا نتیجہ ہے۔ یہ امر بھی قابل ِ غور ہے کہ بھارتی میڈیا، جو حکومتی بیانیے کا ترجمان بن چکا ہے، ایسے بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ مودی کی سخت گیر شبیہ برقرار رہے۔ یہی میڈیا وہ پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں حقائق کے بجائے اشتعال انگیزی فروغ پاتی ہے۔

مودی کے لیے سب سے بڑا دھچکا وہ عسکری برتری ہے جس کا خواب بھارت نے کئی برسوں سے دیکھا مگر کبھی پورا نہ کر سکا۔ پاکستان کی دفاعی حکمت ِ عملی نے بھارت کی جنگی خواہشات کو بارہا ناکام بنایا۔ بھارت نے 2019 میں پلوامہ کے بعد جس طرح ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا ڈھونگ رچایا، اْس کے بعد بین الاقوامی ذرائع نے خود اس کے جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ مودی کا ‘‘بدلے کی آگ’’ والا لہجہ اسی شکست خوردگی کی علامت ہے جو زمینی حقیقتوں کے آگے بے بس ہے۔

پاکستان کے لیے یہ کوئی نیا تجربہ نہیں کہ بھارت داخلی ناکامیوں کا ملبہ بیرونی دشمن پر ڈالے۔ مگر مودی کے دور میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بھارت کا عسکری بجٹ 2025 میں 91 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، مگر اس بھاری سرمایہ کاری کے باوجود بھارت اپنی سرحدی کشیدگیوں کو حل کرنے میں ناکام رہا۔ نہ چین کے ساتھ لداخ کا تنازع ختم ہوا، نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں بغاوت دبائی جا سکی۔ اس کے برعکس وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور میڈیا پر قدغنیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں مودی کی ’’بدلے کی آگ‘‘ والی سوچ کو سمجھنا چاہیے ایک ایسا سیاسی ہتھیار جو اندرونی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس نے مودی کی خارجہ پالیسی کو ’’reactionary nationalism‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ اصطلاح ایسے حکمرانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی دشمنی کو ہوا دیتے ہیں۔ مودی کی تقاریر، جن میں وہ بار بار ’’نئے بھارت‘‘ کی بات کرتے ہیں، دراصل اس قومی تشخص کے کھوکھلے تصور کی نمائندگی کرتی ہیں جو نفرت اور دشمنی پر قائم ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ صبر و تحمل کے ساتھ امن کی بات کی ہے۔ افواجِ پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی اشتعال انگیزی کا حصہ نہیں بنے گا، لیکن اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے، مگر عزتِ نفس پر سمجھوتا بھی ممکن نہیں۔ یہی وہ موقف ہے جس نے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک ذمے دار ریاست کے طور پر پیش کیا، جبکہ بھارت کا امیج ایک جارحانہ اور غیر مستحکم قوت کے طور پر اْبھرا ہے۔ مودی کے انتقامی بیانات کے نتیجے میں خطے میں امن کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔ اگر بھارت اپنے سیاسی فائدے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دیتا رہا تو اس کے اثرات صرف پاکستان پر نہیں بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ مودی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے مظاہرے سے قومیں بڑی نہیں ہوتیں، بلکہ انصاف، رواداری اور مکالمے سے معاشرے مستحکم ہوتے ہیں۔

اب وقت ہے کہ عالمی برادری بھارت کی جنگی زبان کے بجائے امن کی ضرورت پر زور دے۔ اقوامِ متحدہ، سارک اور عالمی طاقتوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ اگر جنوبی ایشیا میں ایک اور بحران بھڑکا تو اس کے اثرات سرحدوں سے بہت دور تک جائیں گے۔ مودی کے سیاسی بیانات صرف انتخابی مہم کا حصہ نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ بھارت کے دانشور، صحافی اور سنجیدہ طبقات بھی اب یہ آواز اٹھا رہے ہیں کہ نفرت اور انتقام کی سیاست نے ملک کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی فعال کردار ادا کرے۔ عالمی میڈیا میں حقائق کو مؤثر انداز میں پیش کرنا، جنوبی ایشیا میں امن کے بیانیے کو مضبوط بنانا، اور خطے کے ممالک کو بھارت کی جارحانہ پالیسیوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کو مودی کے اشتعال انگیز بیانات کا جواب حکمت، تدبر اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہ کر دینا ہوگا۔ کیونکہ طاقت کا اصل مظاہرہ میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ صبر، عقل اور امن کے تحفظ میں ہوتا ہے۔

 

پروفیسر شاداب احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کی بدلے کی ا گ نہیں بلکہ کہ بھارت بھارت کے مودی کے مودی کی کے لیے چکا ہے امن کے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی