Jasarat News:
2026-07-24@01:54:26 GMT

بدلے کی آگ میں جلتا مودی خطے کے امن کے لیے خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد مودی حَواس باختَہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں الیکشن مہم میں مودی کا یہ بیان کہ ’’میں بدلے کی آگ میں جل رہا ہوں، پاکستانی آرمی چیف میرا اصل ٹارگٹ ہے‘‘۔ یہ جملہ صرف سیاسی غصے کا اظہار نہیں بلکہ اس احساسِ ہزیمت کی جھلک ہے جو پاکستان کی عسکری کامیابیوں نے بھارت کے دل میں پیدا کی ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ وہ ہر سازش، ہر پروپیگنڈا اور ہر دبائو کے باوجود پاکستان کو کمزور نہیں کر سکے۔ رافیل کا غرور خاک میں ملنا مودی کے تکبر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ بھارت کے وزیر ِاعظم نریندر مودی کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا کہ ’’میں بدلے کی آگ میں جل رہا ہوں‘‘ اور اشارہ پاکستان کی عسکری قیادت کی جانب تھا، اسی ذہنی انتشار، شکست خوردگی اور نفرت کے اس سفر کی تازہ قسط ہے۔ اگرچہ بھارتی حکومت کے سرکاری ذرائع اس جملے کی براہِ راست تصدیق نہیں کرتے، مگر مودی کی تقاریر اور بیانات میں حالیہ دنوں جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا ہے وہ اس جذبہ ٔ انتقام اور شدت پسندی کا کھلا مظہر ہے۔ اس طرح کے بیانات محض سیاسی اشتعال نہیں بلکہ ایک خطرناک نظریے کی علامت ہیں جو بھارت کو امن کے راستے سے مزید دور لے جا رہے ہیں۔

مودی کے سیاسی نظریے کی بنیاد ہندوتوا پر ہے، جہاں طاقت، تشدد اور مذہبی برتری کو قومی سلامتی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ یہی سوچ انہیں ہر اس قوت کے خلاف بھڑکاتی ہے جو بھارت کے ’’عظیم اکھنڈ ہندو راشٹر‘‘ کے خواب میں رکاوٹ بنے۔ پاکستان ہمیشہ سے اس نظریے کا سب سے بڑا ہدف رہا ہے، کیونکہ مودی کی سیاست نفرت کے اس ایندھن سے ہی جلتی ہے۔ مودی کی حکومت نے اپنے اقتدار کے دوران کبھی سرجیکل اسٹرائیک، پہل گام واقعہ اور کبھی پلوامہ کے نام پر عوام کے جذبات بھڑکائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو آج بھی اپنے اندرونی تضادات، غربت، اور گرتی ہوئی معیشت کے مقابلے میں کوئی ٹھوس کامیابی نہیں ملی۔ جب اندرونی محاذ پر ناکامی بڑھتی ہے تو سیاست دان عوام کی توجہ بیرونی دشمن کی طرف موڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی مودی کی نفسیات کی اصل جڑ ہے۔ رافیل طیاروں کے سودے سے لے کر کسانوں کی تحریک تک، مودی حکومت نے عوامی سطح پر کئی بحرانوں کا سامنا کیا۔ ان کی معاشی پالیسیوں نے متوسط طبقے کو مایوسی میں دھکیل دیا۔ مگر ان تمام ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مودی نے ہمیشہ پاکستان مخالف بیانات کو ایک نیا رنگ دیا۔ حالیہ بیان بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے، جو ان کے اندرونی دباؤ اور عالمی سطح پر کمزور ہوتے امیج کا نتیجہ ہے۔ یہ امر بھی قابل ِ غور ہے کہ بھارتی میڈیا، جو حکومتی بیانیے کا ترجمان بن چکا ہے، ایسے بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے تاکہ مودی کی سخت گیر شبیہ برقرار رہے۔ یہی میڈیا وہ پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں حقائق کے بجائے اشتعال انگیزی فروغ پاتی ہے۔

مودی کے لیے سب سے بڑا دھچکا وہ عسکری برتری ہے جس کا خواب بھارت نے کئی برسوں سے دیکھا مگر کبھی پورا نہ کر سکا۔ پاکستان کی دفاعی حکمت ِ عملی نے بھارت کی جنگی خواہشات کو بارہا ناکام بنایا۔ بھارت نے 2019 میں پلوامہ کے بعد جس طرح ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا ڈھونگ رچایا، اْس کے بعد بین الاقوامی ذرائع نے خود اس کے جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ مودی کا ‘‘بدلے کی آگ’’ والا لہجہ اسی شکست خوردگی کی علامت ہے جو زمینی حقیقتوں کے آگے بے بس ہے۔

پاکستان کے لیے یہ کوئی نیا تجربہ نہیں کہ بھارت داخلی ناکامیوں کا ملبہ بیرونی دشمن پر ڈالے۔ مگر مودی کے دور میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ بھارت کا عسکری بجٹ 2025 میں 91 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، مگر اس بھاری سرمایہ کاری کے باوجود بھارت اپنی سرحدی کشیدگیوں کو حل کرنے میں ناکام رہا۔ نہ چین کے ساتھ لداخ کا تنازع ختم ہوا، نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں بغاوت دبائی جا سکی۔ اس کے برعکس وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور میڈیا پر قدغنیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں مودی کی ’’بدلے کی آگ‘‘ والی سوچ کو سمجھنا چاہیے ایک ایسا سیاسی ہتھیار جو اندرونی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس نے مودی کی خارجہ پالیسی کو ’’reactionary nationalism‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ اصطلاح ایسے حکمرانوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی دشمنی کو ہوا دیتے ہیں۔ مودی کی تقاریر، جن میں وہ بار بار ’’نئے بھارت‘‘ کی بات کرتے ہیں، دراصل اس قومی تشخص کے کھوکھلے تصور کی نمائندگی کرتی ہیں جو نفرت اور دشمنی پر قائم ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ صبر و تحمل کے ساتھ امن کی بات کی ہے۔ افواجِ پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی اشتعال انگیزی کا حصہ نہیں بنے گا، لیکن اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے، مگر عزتِ نفس پر سمجھوتا بھی ممکن نہیں۔ یہی وہ موقف ہے جس نے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک ذمے دار ریاست کے طور پر پیش کیا، جبکہ بھارت کا امیج ایک جارحانہ اور غیر مستحکم قوت کے طور پر اْبھرا ہے۔ مودی کے انتقامی بیانات کے نتیجے میں خطے میں امن کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔ اگر بھارت اپنے سیاسی فائدے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دیتا رہا تو اس کے اثرات صرف پاکستان پر نہیں بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ مودی کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے مظاہرے سے قومیں بڑی نہیں ہوتیں، بلکہ انصاف، رواداری اور مکالمے سے معاشرے مستحکم ہوتے ہیں۔

اب وقت ہے کہ عالمی برادری بھارت کی جنگی زبان کے بجائے امن کی ضرورت پر زور دے۔ اقوامِ متحدہ، سارک اور عالمی طاقتوں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ اگر جنوبی ایشیا میں ایک اور بحران بھڑکا تو اس کے اثرات سرحدوں سے بہت دور تک جائیں گے۔ مودی کے سیاسی بیانات صرف انتخابی مہم کا حصہ نہیں بلکہ خطے کے مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ بھارت کے دانشور، صحافی اور سنجیدہ طبقات بھی اب یہ آواز اٹھا رہے ہیں کہ نفرت اور انتقام کی سیاست نے ملک کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی فعال کردار ادا کرے۔ عالمی میڈیا میں حقائق کو مؤثر انداز میں پیش کرنا، جنوبی ایشیا میں امن کے بیانیے کو مضبوط بنانا، اور خطے کے ممالک کو بھارت کی جارحانہ پالیسیوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کو مودی کے اشتعال انگیز بیانات کا جواب حکمت، تدبر اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہ کر دینا ہوگا۔ کیونکہ طاقت کا اصل مظاہرہ میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ صبر، عقل اور امن کے تحفظ میں ہوتا ہے۔

 

پروفیسر شاداب احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان کی بدلے کی ا گ نہیں بلکہ کہ بھارت بھارت کے مودی کے مودی کی کے لیے چکا ہے امن کے

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ