ایشین یوتھ گیمز: پاکستانی رنرز 100 میٹر فائنل میں جگہ بنانے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
تیسرے ایشین یوتھ گیمز میں پاکستان کے دونوں 100 میٹر کے رنرز فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔
کراچی کی 15 سالہ اقرا ریاض گرلز 100 میٹر کے ہیٹ مقابلے میں 26 ایتھلیٹس میں 17 ویں نمبر پر رہیں۔ انہوں نے اپنی ذاتی بہترین کارکردگی دکھائی اور اپنا ریکارڈ 13.60 سیکنڈز سے بہتر کر کے 13.09 سیکنڈز تک پہنچا لیا، مگر مقررہ وقت 12.
ادھر بوائز 100 میٹر ریس میں پاکستان کے غلام مرتضیٰ نے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن وہ 31 ایتھلیٹس میں 18 ویں پوزیشن پر رہے اور فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکے۔ ان کا وقت 11.20 سیکنڈز رہا۔
یہ گیمز بحرین میں جاری ہیں، جہاں تقریباً 45 ممالک سے چار ہزار کھلاڑی 26 مختلف کھیلوں کے 259 ایونٹس میں حصہ لے رہے ہیں۔ 2013 میں چین میں دوسرے ایشین یوتھ گیمز ہوئے تھے، جبکہ 2017 میں سری لنکا سے کولمبو میں ہونے والے گیمز کی میزبانی واپس لے لی گئی تھی۔ 2019 میں کووڈ-19 کی وجہ سے یہ ایونٹ دوبارہ ملتوی ہوا تھا۔
گزشتہ روز کنگ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ اسٹیڈیم میں ایشین یوتھ گیمز کا شاندار افتتاحی پروگرام بھی ہوا، جس میں ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا، سلامی دی گئی اور میوزیکل کنسرٹ کے ساتھ آتش بازی کے رنگا رنگ مظاہرے کیے گئے۔ یہ گیمز 31 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔
پاکستانی کھلاڑیوں کی حوصلہ افزا کوششوں کے باوجود اگلے ایونٹس میں بہتر کارکردگی کی توقع کی جا رہی ہے۔ کیا آپ بھی ان کی کامیابیوں پر نظر رکھ رہے ہیں؟
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایشین یوتھ گیمز
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔