دنیا پاکستان کی طرف امید کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے،مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
مری : سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہباز شریف دورِ میں ملک کا عالمی وقار نمایاں طور پر بہتر ہوا اور جہاں بھی وزیراعظم شہبازشریف کا طیارہ جاتا ہے اسے اس مملکت کی جانب سے خصوصی پروٹوکول اور سلامی دی جاتی ہے۔
کوٹلی ستیاں میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا پاکستان کی طرف امید کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی سابق حکومت نے عوامی خدمت کے بجائے الزام تراشی، گالم گلوچ اور انتشار کی سیاست کے سوا کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور فراڈ کی سیاست کرنے والے اب اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے “ستھرا پنجاب پروگرام” کا آغاز کیا ہے جس کے مثبت اثرات تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اور صوبے کے گلی محلے پہلے سے زیادہ صاف نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں طلبہ کو لیپ ٹاپ دیے جا رہے ہیں جبکہ صوبے میں مزید 10 ہزار نئی سڑکیں تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کی سابق حکومت نے مری ڈویلپمنٹ پلان پیش کیا، جس کے ذریعے سیاحت اور مقامی سہولیات میں بہتری لائی گئی۔ صحت کے شعبے میں بھی پنجاب حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف نے کوٹلی ستیاں کو تحصیل کے درجے پر ترقی دی، اور موجودہ حکومت علاقے کی چیئرلفٹ کو ریکارڈ مدت میں مکمل کرے گی تاکہ مقامی لوگوں اور سیاحوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مریم اورنگزیب نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔