نریندر مودی اور امت شاہ پر لوگوں کا بھروسہ نہیں رہا، پرینکا گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ اگر بی جے پی منصفانہ الیکشن لڑنا چاہتی ہے تو میں انہیں چیلنج دیتی ہوں، بیلٹ کے ذریعے الیکشن لڑ کر دکھائیں، وہ خود جانتے ہیں کہ اس صورت میں وہ جیت نہیں سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کی سینیئر رہنما اور وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بی جے پی پر عوام کا اعتماد کھو دینے کا الزام لگاتے ہوئے اسے منصفانہ طریقے سے الیکشن لڑنے کا چیلنج دیا۔ دہلی کے رام لیلا میدان میں منعقدہ کانگریس کی ریلی "ووٹ چور، گدی چھوڑ" سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر "ووٹ چوری" کے الزامات کو دوہرایا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر بی جے پی منصفانہ الیکشن لڑنا چاہتی ہے تو میں انہیں چیلنج دیتی ہوں، بیلٹ کے ذریعے الیکشن لڑ کر دکھائیں، وہ خود جانتے ہیں کہ اس صورت میں وہ جیت نہیں سکتے۔ بہار میں جو ہوا، پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ یہ جیت چوری کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔
پرینکا گاندھی نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے اندر بھی بی جے پی رہنماؤں کا اعتماد کمزور پڑ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا اعتماد ختم ہو چکا ہے، وہ ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرسکتے۔ سر جھکا کر گزر جاتے ہیں، کیونکہ عوام اب بی جے پی، اس کی حکومت، وزیراعظم نریندر مودی اور امت شاہ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ کانگریس لیڈر نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوام کے حقیقی مسائل پر بحث سے گھبراتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی کے دباؤ کے بعد ہی حکومت کو الیکشن اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) پر بحث پر آمادہ ہونا پڑا لیکن آخر میں بحث کو "وندے ماترم" کی تاریخ تک محدود کر دیا گیا، جبکہ بے روزگاری، مہنگائی، پیپر لیک جیسے سنگین مسائل پر بات کرنے کی ہمت حکومت میں نہیں ہے۔
پرینکا گاندھی نے مزید الزام لگایا کہ ملک میں عدالتی نظام پر دباؤ ہے اور میڈیا چند بڑے صنعت کاروں کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج عدلیہ دباؤ میں ہے، میڈیا اڈانی یا امبانی کے قبضے میں ہے۔ پچھلے الیکشن میں کانگریس کے لیڈروں کو جیل میں ڈالا گیا، پارٹی کے بینک اکاؤنٹس منجمد کئے گئے اور ای ڈی، انکم ٹیکس اور سی بی آئی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ کانگریس کی اس ریلی کو پارٹی نے الیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا حصہ قرار دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ "ووٹ چوری" اور SIR کے معاملے پر یہ مہم مزید تیز کی جائے گی اور بی جے پی حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرینکا گاندھی نے کہا کہ بی جے پی
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔