تحریک انصاف دراصل ایک تحریک ہے، سیاسی جماعت نہیں، بیرسٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 11th, January 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹرعلی ظفر نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی نے ہمیں زخم تو ضرور دیا مگر یہ ہمارے لئے فائدے مند بھی ہے، تحریک انصاف دراصل ایک تحریک ہے، سیاسی جماعت نہیں ہے۔
تھنک فیسٹول میں اظہار خیال کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ حالیہ الیکشن میں پورے ملک میں لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا، لیکن ملک میں اس وقت عوام کی منتخب حکومت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیڈر نے ہمیشہ کہا کہ آزادی، عوام اور انصاف کے لئے آواز اٹھائیں، پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک میں جہاد کررہی ہے۔
مزیدپڑھیں:دنیا کے غریب ترین صدر نے کینسر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: تحریک انصاف
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔