اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کی فضائی حدود میں حالیہ کشیدگی اور بھارتی ڈرون حملوں کے بعد عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کی توجہ اسرائیلی ساختہ خودکش ڈرون “ہیروپ” پر مرکوز ہو گئی ہے، جو بظاہر بھارتی افواج کے زیر استعمال ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی سے متعلق ویب سائٹ ایئرفورس ٹیکنالوجیز کے مطابق ہیروپ ایک خطرناک خودکش ڈرون ہے، جو خود کو ہدف سے ٹکرا کر تباہ کرتا ہے اور بم یا میزائل الگ سے نہیں لے جاتا۔

ہیروپ کو اسرائیلی کمپنی اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز نے تیار کیا ہے، اور اس کی نمایاں خصوصیات میں ایک ہزار کلومیٹر کی رینج اور چھ گھنٹے کی پرواز کا دورانیہ شامل ہے، جس سے یہ پاکستان کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کیسے کام کرتا ہے؟
یہ ڈرون کسی بھی زاویے — افقی یا عمودی — سے زمین، سمندر یا فضائی پلیٹ فارم سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ ہیروپ کا سب سے منفرد پہلو یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر خود ہی ایک ہتھیار ہے، یعنی اس میں علیحدہ دھماکہ خیز مواد نہیں ہوتا، بلکہ یہ 23 کلوگرام کا خودکش ایمیونیشن اپنے اندر رکھتا ہے، جو ہدف کو براہ راست نشانہ بناتا ہے۔

آپریٹر کے پاس مکمل کنٹرول موجود ہوتا ہے، جو حملے کی منظوری دے سکتا ہے یا اگر حالات بدل جائیں تو اسے روک بھی سکتا ہے۔

جدید سینسرز اور ہدف یابی
ہیروپ میں جدید فارورڈ لکنگ انفراریڈ (FLIR) اور کلر CCD کیمرے نصب ہیں، جو دن اور رات کے کسی بھی وقت 360 درجے کی نگرانی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ریئل ٹائم ویڈیو فیڈ سیٹلائٹ لنک کے ذریعے مشن کنٹرول کو فراہم کرتا ہے، جس سے درست نشانے میں مدد ملتی ہے۔

یہ ڈرون دو طریقوں سے کام کرتا ہے:

اینٹی ریڈار ہومنگ: متحرک ریڈیو سگنلز پر فوری حملہ۔

الیکٹرو آپٹیکل گائیڈنس: بند ریڈار، لانچ سائٹس یا دیگر حساس تنصیبات کی تلاش اور حملہ۔

عالمی استعمال اور بھارت کا کردار
ہیروپ ڈرون اسرائیل کے علاوہ ترکی، نیدرلینڈز، مراکش اور آذربائیجان جیسے ممالک کے زیر استعمال ہے۔ آذربائیجان نے اپریل 2020 میں آرمینیا کے خلاف جنگ میں اس کی مؤثر کارکردگی کی تعریف کی تھی۔ بھارت نے بھی 2009 میں اسرائیل سے تقریباً 10 کروڑ ڈالر مالیت کے دس ہیروپ ڈرونز خریدے تھے اور حالیہ جھڑپوں میں اس کا مبینہ استعمال سامنے آیا ہے۔

دفاعی ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق ہیروپ خاص طور پر دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور اس کا استعمال کسی بھی روایتی دفاعی لائن کے لیے شدید خطرہ ہو سکتا ہے۔ یہ خودکار انداز میں ریڈار یا کمیونیکیشن سگنلز کی تلاش کرتا ہے اور فوری طور پر ان پر حملہ آور ہو جاتا ہے، جس سے دشمن کی دفاعی صلاحیت کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرتا ہے سکتا ہے کسی بھی

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ