سعودی عرب: جنگ کی بو میں، امن کی خوشبو
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
دنیا کی سب سے پرخطر سرحد، پاکستان اور بھارت کے درمیان کھنچی ہوئی وہ لکیر ہے جس نے نصف صدی سے زائد عرصے میں صرف دونوں ممالک کی افواج کو آمنے سامنے نہیں کیا، بلکہ عالمی سیاست کے رخ بھی متعین کیے۔ کبھی کشمیر کے نام پر، کبھی پانی، کبھی دہشتگردی، تو کبھی محض داخلی سیاست کے داؤ پیچ کے لیے یہ لکیر شعلہ بن جاتی ہے۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ جہاں اس خطے میں اسلحہ بڑھا، وہیں ایک خاموش مگر بصیرت افروز سفارت کاری نے بھی جنم لیا، جو زور آور آوازوں کے شور میں سنائی تو کم دیتی ہے، مگر اس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ ایسی ہی سفارت کاری کا مظہر حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی ثالثی کے طور پر سامنے آیا۔
2024 کے اختتام پر اور 2025 کے آغاز میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب غیر معمولی نقل وحرکت، سرحدی خلاف ورزیاں، اور میڈیا کے میدان میں نفرت انگیز مہمات نے جنوبی ایشیا کو ایک بار پھر ایٹمی تصادم کی طرف دھکیل دیا۔ بھارت کی طرف سے روایتی الزام تراشی، اور پاکستان کی جانب سے جواباً مؤثر سفارتی، عسکری اور معلوماتی ردعمل نے ایک ایسی فضا بنا دی جہاں جنگ کا خطرہ حقیقی محسوس ہونے لگا تھا۔ اس فضا میں عالمی برادری نے حسبِ معمول تشویش کا اظہار کیا، مگر اس مرتبہ سعودی عرب نے خاموش ثالث نہیں، بلکہ ایک فعال مصالحت کار کا کردار ادا کیا۔
سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور، جناب عادل الجبیر نے دہلی اور اسلام آباد کے متواتر دورے کیے، وہ بھی ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کی افواج مکمل طور پر ہائی الرٹ پر تھیں۔ ان کے دورے محض علامتی نہیں تھے، بلکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی قیادت میں ایک مربوط سفارتی کوشش کا حصہ تھے جس میں امریکا، چین اور دیگر اثر انگیز قوتوں کو بھی متحرک رکھا گیا۔ سعودی عرب کی یہ حکمت عملی نہ صرف بروقت تھی بلکہ تہذیبی وقار کے ساتھ بھی آراستہ تھی۔ اس ثالثی کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ یہ یکطرفہ نہیں تھی۔ نہ پاکستان کو بھارتی مفادات کے آگے جھکنے کا مشورہ دیا گیا، نہ بھارت کو پاکستان پر زور آزمائی کی اجازت ملی۔ یہی وہ توازن ہے جس کی اس خطے میں ہمیشہ کمی رہی ہے۔
یہ امر حیرت انگیز نہیں کہ سعودی عرب نے ثالثی کی یہ راہ ابھی چنی، بلکہ حیرت اس بات پر ہے کہ اس نے برسوں کی خاموشی کو ختم کر کے یہ فیصلہ ایسے وقت پر کیا جب دونوں ممالک ایک دوسرے کو سفارتی محاذ پر بھی کچلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ماضی میں سعودی عرب، خلیجی وقار اور عالم اسلام کی وحدت کے پیش نظر، اکثر ایسے تنازعات پر خاموش رہتا تھا یا پس پردہ حمایت کرتا تھا۔ مگر اس مرتبہ سفارت کاری کے انداز میں جو تبدیلی دیکھی گئی، وہ نہ صرف شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا سیاسی تسلسل ہے، بلکہ ایک نئی عالمی سوچ کی جھلک بھی ہے، جو طاقت کے بجائے توازن اور اثرورسوخ کے ذریعے علاقائی استحکام کو ممکن بنانا چاہتی ہے۔
اس سفارت کاری کا ایک منفرد پہلو وہ اعتبار ہے جو سعودی عرب کو پاکستان اور بھارت دونوں میں حاصل ہے۔ بھارت سعودی عرب کو ایک اہم تجارتی و توانائی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان سعودی عرب کو نہ صرف حرمین کا نگہبان سمجھتا ہے، بلکہ ایک دیرینہ اور آزمودہ برادر ملک بھی، جس نے ہر مشکل وقت میں اس کی سیاسی و مالی مدد کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سعودی عرب ثالثی کی نیت سے آگے بڑھا تو کسی نے اسے مسترد نہیں کیا، اور یہی اس کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
اس ثالثی کو اگر ایک وسیع تر عالمی سیاق میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ محض پاک بھارت بحران کے حل کی کوشش نہیں بلکہ سعودی خارجہ پالیسی کی سمت کا اظہار بھی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جس نے 1980 کی دہائی میں افغان کنفلکٹ کے دوران افغانیوں کو مکہ میں اکٹھا کیا، 2007 میں فلسطینی دھڑوں کو جوڑنے کی کوشش کی، اور حال ہی میں روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے اشارتی مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا، اسی طرح امریکا اور روس کو بھی جمع کیا، یہی وہ تدریجی سفر ہے جو اب جنوبی ایشیا تک آ پہنچا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ تجزیہ، تشکر اور تدبیر کا ہے۔ تجزیہ اس بات کا کہ اگر سعودی ثالثی نہ ہوتی تو کیا حالات جنگ میں بدل سکتے تھے؟ تشکر اس اعتماد کا جو ریاض نے پاکستان پر برقرار رکھا، اور تدبیر اس پالیسی کی جو اس ثالثی کو وقتی حل کے بجائے ایک مستقل امن حکمت عملی میں بدل سکتی ہے۔ سعودی عرب کو بھی اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ثالثی کو صرف وقتی بحرانوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے امن، سفارت کاری کے ادارے میں بدلنے کی جانب بڑھنا چاہیے۔
اگر آج پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے سے واپس پلٹے ہیں، تو اس میں سعودی سفارت کاری کی مہذب طاقت، وقت شناسی، اور توازن فہمی کا بڑا کردار ہے۔ اگر کل کو یہ خطہ پائیدار امن کی راہ پر چل پڑے، تو اس کی بنیاد انہی خاموش مگر مؤثر قدموں میں تلاش کی جا سکتی ہے جو ریاض سے اٹھے اور دہلی واسلام آباد کی فضا کو کسی حد تک صاف کر گئے۔
اور اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے، تو اسے لازم ہے کہ وہ طاقت کی دہلیز سے ہٹ کر، تہذیب، توازن اور ثالثی کی اس روش پر قدم رکھے، جس کا نشان سعودی عرب نے پاک بھارت بحران میں قائم کیا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب امن، کمزوری نہیں، بلکہ دانائی بن چکا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت سعودی عرب کو سفارت کاری پاک بھارت ثالثی کی
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک