Daily Ausaf:
2026-06-03@05:00:25 GMT

خاموشی سے طوفان تک

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

جب دشمن نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا، جب نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، عورتوں ، بچوں اور بزرگوں کا خون بہایا گیااور جب بھارت نے اپنی روایت کے مطابق مکاری اور چالاکی سے جنگی جنون کا مظاہرہ کیا تب پاکستان نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے تاریخ کا وہ باب رقم کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے فخر اور غیرت کی علامت بن چکا ہے۔ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی۔ہم نے بارہا عالمی برادری کے سامنے یہ بات رکھی کہ جنوبی ایشیا میں امن قائم رہنا چاہیے۔ ہماری قیادت نے بھارت کو ہر فورم پر باور کرایا کہ ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے،ہم ترقی چاہتے ہیں۔ ہم خطے کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن بھارت نے ہر بار ہماری پرخلوص کوششوں کو کمزوری جانا۔ اُس نے ہتھیاروں کی دھمکی دی، اس نے سفارتی جھوٹ بولے اور آخرکار بزدلی کی انتہا کر دی ۔ لیکن وہ یہ بھول گیا کہ پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ ایک نظریہ ہے، یہ ایک جذبہ ہے، یہ قربانیوں سے بنی ہوئی ریاست ہے۔جب آرمی چیف نے یہ کہا کہ ’’تیرہ لاکھ بھارتی فوج ہمیں ہتھیاروں سے ڈرا نہیں سکتی‘‘ تو یہ محض ایک فقرہ نہیں تھا، یہ دشمن کو کھلا چیلنج تھا اور جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’’اگر بھارت نے جارحیت کی تو ہم تیار ہیں، آزماؤ نہیں‘‘ تو یہ الفاظ نہیں تھے، ایک عزم تھا، ایک وعدہ تھا کہ پاکستان اپنی سا لمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دشمن نے حملہ کر کے وہی کیا جو ایک بزدل دشمن کرتا ہے، لیکن ہماری افواج نے جو جواب دیا وہ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔ پاکستان کی سرزمین پر اگر کسی نے میلی آنکھ ڈالی تو وہ آنکھ ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائے گی۔ ہم نے میدان جنگ میں بھی دشمن کو للکارااور سفارتی محاذ پر بھی۔ یہ ہمارا اخلاقی برتری کا ثبوت ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی، لیکن دشمن اگر جنگ مسلط کرے گا تو ہم جواب بھی اپنی مرضی کے وقت اور اپنی مرضی کی جگہ پر دیں گے اور یہی ہوا۔ بھارت کو اپنے پاگل پن، اپنے جنگی جنون اور اپنی بوکھلاہٹ کا ایسا جواب ملا کہ وہ نہ صرف پچھتایا بلکہ عالمی سطح پر رسوابھی ہوا۔
پاکستان کی افواج نے جس بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ اس قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ صرف ایک فوجی جواب نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا کہ پاکستان کی عوام اور افواج ایک پیج پر ہیں۔ دشمن نے ایک آزاد ریاست کے غیر مسلح شہریوں پر حملہ کر کے جو گھٹیا پن دکھایا، اس کا جواب اُسے اتنی شدت سے دیا گیا کہ وہ دن اور رات کا فرق بھول گیا۔ اب یہ بھارت کی مرضی تھی کہ اس نے محاذ آرائی کا راستہ چُنا، لیکن یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اُسے کہاں اور کیسے لے کر جاتے ہیں۔جب دشمن نے بزدلی سے وار کیا تو ہماری خاموشی ایک لمحہ رہی، اُس کے بعد جو گرج اٹھی وہ پاکستان کے ہر سپاہی کے دل سے نکلی ہوئی للکار تھی۔ یہ للکار صرف بندوقوں کی گونج نہ تھی، یہ وہ ایمان افروز عزم تھا جو ہمارے ہر شہید کے خون سے ہمیں ورثے میں ملا ہے۔ دشمن یہ بھول بیٹھا تھا کہ ہم وہ قوم ہیں جو لاشوں پر آنسو بہانے کے بجائے عزم کے نئے چراغ جلاتی ہے۔ بھارت کا خیال تھا کہ وہ ہمیں خوفزدہ کر دے گا، ہماری کمر جھکا دے گا لیکن اُسے جواب ملا اُن آہنی ہاتھوں سے جو سرحدوں پر سیسہ پلائے کھڑے ہیں۔
ؔیہ سینے صورت فولاد ڈٹ جاتے ہیں میدان میں
خدا کہتا ہے خود بنیان مرصوص ان کو قرآن میں
ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک ایک لفظ دشمن کے لیے اعلانِ جنگ سے کم نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیار ہیں، لیکن پہل ہم نہیں کریں گے اور جب دشمن نے اپنی اوقات سے تجاوز کیا تو ہم نے اُسے دکھایا کہ یہ سرزمین تمہارے ناپاک قدموں کے لیے نہیں بنی۔ ہم نے اُسے یاد دلایا کہ یہ وہی زمین ہے جہاں قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘۔ہمارے فوجی جوان جب اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑتے ہیں تو وہ صرف جنگ نہیں لڑتے۔وہ اپنے وطن کی مٹی، اپنے پرچم اور اپنے شہیدوں کی قسم پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ اس قوم کی بیٹیاں جب اپنے لختِ جگر کو وطن پر قربان کرنے کے لیے دعائیں دیتی ہیں تو دشمن کے ہتھیار اور اُس کے ناپاک عزائم خاک میں مل جاتے ہیں۔ یہ جذبہ، یہ حوصلہ، اور یہ غیرت کسی بھی دشمن کے خواب کو بھیانک حقیقت میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔بھارت کا یہ سمجھنا کہ وہ رات کی تاریکی میں وار کر کے بچ جائے گا، اُس کی سب سے بڑی بھول تھی۔پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ دفاع صرف توپ و تفنگ سے نہیں ہوتابلکہ اس کے پیچھے ایک پوری قوم کی دعائیں، ماں کی آنکھوں سے گرتے آنسو، شہیدوں کے لہو سے لکھی تاریخ اور حب الوطنی کے وہ جذبات ہوتے ہیں جو ہر سپاہی کو فولاد سے بھی سخت بنا دیتے ہیں۔ اس بار بھی دشمن کو وہی سبق ملا جو ماضی میں کئی بار پڑھایا جا چکا ہے۔ یاد رکھیں، یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے پاکستان کو آزمایا ہو۔ لیکن ہر بار اُسے شرمندگی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کارگل، سیاچن، بالاکوٹ، اور اب یہ حالیہ حملہ ،بھارت نے جب بھی آگے بڑھنے کی کوشش کی، اُس کی راہ میں افواجِ پاکستان کی آہنی دیوار کھڑی ہو گئی۔یہ وقت ہے کہ پوری پاکستانی قوم ایک آواز ہو جائے۔ ہم نے دیکھ لیا کہ ہماری افواج اپنی جانوں کی بازی لگا کر سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ اب ہماری باری ہے کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ان کے مورال کو بلند رکھیں۔ ان پر اعتماد کریں اور اُن قوتوں کا مقابلہ کریں جو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہمیں کمزور کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ ہمیں اپنے شہیدوں کی قربانیوں کا قرض ادا کرنا ہے ۔اُن ماؤں کی آنکھوں کا احترام کرنا ہے جنہوں نے بیٹے وطن پر قربان کیے اور ان بچوں کے خوابوں کو تعبیر دینی ہے جنہوں نے ایک آزاد، محفوظ اور خوشحال پاکستان کا خواب دیکھا۔یہ وقت ایک نئے عزم، نئی یکجہتی اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے۔ دشمن کے لیے ہمارا پیغام ایک ہی ہے: تم نے وار کیا، ہم نے جواب دیا۔ لیکن یاد رکھو، اگر دوبارہ کبھی میلی آنکھ سے دیکھا تو یہ جواب اُس سے بھی سخت، اُس سے بھی بھرپور اور اُس سے بھی فیصلہ کن ہو گا۔پاکستان کی سا لمیت، خود مختاری اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ہم نہ پہلے جھکے تھے، نہ اب جھکیں گے۔ یہ وطن ہماری پہچان ہے، ہماری غیرت ہے اور ہماری آخری سانس تک اس کے دفاع کے لیے ہم تیار ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔افواجِ پاکستان پائندہ باد

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کی بھارت نے دشمن کے کے لیے سے بھی تھا کہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد