Daily Ausaf:
2026-07-24@03:23:52 GMT

خاموشی سے طوفان تک

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

جب دشمن نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا، جب نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، عورتوں ، بچوں اور بزرگوں کا خون بہایا گیااور جب بھارت نے اپنی روایت کے مطابق مکاری اور چالاکی سے جنگی جنون کا مظاہرہ کیا تب پاکستان نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے تاریخ کا وہ باب رقم کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے فخر اور غیرت کی علامت بن چکا ہے۔ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی۔ہم نے بارہا عالمی برادری کے سامنے یہ بات رکھی کہ جنوبی ایشیا میں امن قائم رہنا چاہیے۔ ہماری قیادت نے بھارت کو ہر فورم پر باور کرایا کہ ہم ایک ذمہ دار ریاست ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے،ہم ترقی چاہتے ہیں۔ ہم خطے کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن بھارت نے ہر بار ہماری پرخلوص کوششوں کو کمزوری جانا۔ اُس نے ہتھیاروں کی دھمکی دی، اس نے سفارتی جھوٹ بولے اور آخرکار بزدلی کی انتہا کر دی ۔ لیکن وہ یہ بھول گیا کہ پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ ایک نظریہ ہے، یہ ایک جذبہ ہے، یہ قربانیوں سے بنی ہوئی ریاست ہے۔جب آرمی چیف نے یہ کہا کہ ’’تیرہ لاکھ بھارتی فوج ہمیں ہتھیاروں سے ڈرا نہیں سکتی‘‘ تو یہ محض ایک فقرہ نہیں تھا، یہ دشمن کو کھلا چیلنج تھا اور جب ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’’اگر بھارت نے جارحیت کی تو ہم تیار ہیں، آزماؤ نہیں‘‘ تو یہ الفاظ نہیں تھے، ایک عزم تھا، ایک وعدہ تھا کہ پاکستان اپنی سا لمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دشمن نے حملہ کر کے وہی کیا جو ایک بزدل دشمن کرتا ہے، لیکن ہماری افواج نے جو جواب دیا وہ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔ پاکستان کی سرزمین پر اگر کسی نے میلی آنکھ ڈالی تو وہ آنکھ ہمیشہ کے لیے بند کر دی جائے گی۔ ہم نے میدان جنگ میں بھی دشمن کو للکارااور سفارتی محاذ پر بھی۔ یہ ہمارا اخلاقی برتری کا ثبوت ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی، لیکن دشمن اگر جنگ مسلط کرے گا تو ہم جواب بھی اپنی مرضی کے وقت اور اپنی مرضی کی جگہ پر دیں گے اور یہی ہوا۔ بھارت کو اپنے پاگل پن، اپنے جنگی جنون اور اپنی بوکھلاہٹ کا ایسا جواب ملا کہ وہ نہ صرف پچھتایا بلکہ عالمی سطح پر رسوابھی ہوا۔
پاکستان کی افواج نے جس بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ اس قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ صرف ایک فوجی جواب نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا کہ پاکستان کی عوام اور افواج ایک پیج پر ہیں۔ دشمن نے ایک آزاد ریاست کے غیر مسلح شہریوں پر حملہ کر کے جو گھٹیا پن دکھایا، اس کا جواب اُسے اتنی شدت سے دیا گیا کہ وہ دن اور رات کا فرق بھول گیا۔ اب یہ بھارت کی مرضی تھی کہ اس نے محاذ آرائی کا راستہ چُنا، لیکن یہ ہماری مرضی ہے کہ ہم اُسے کہاں اور کیسے لے کر جاتے ہیں۔جب دشمن نے بزدلی سے وار کیا تو ہماری خاموشی ایک لمحہ رہی، اُس کے بعد جو گرج اٹھی وہ پاکستان کے ہر سپاہی کے دل سے نکلی ہوئی للکار تھی۔ یہ للکار صرف بندوقوں کی گونج نہ تھی، یہ وہ ایمان افروز عزم تھا جو ہمارے ہر شہید کے خون سے ہمیں ورثے میں ملا ہے۔ دشمن یہ بھول بیٹھا تھا کہ ہم وہ قوم ہیں جو لاشوں پر آنسو بہانے کے بجائے عزم کے نئے چراغ جلاتی ہے۔ بھارت کا خیال تھا کہ وہ ہمیں خوفزدہ کر دے گا، ہماری کمر جھکا دے گا لیکن اُسے جواب ملا اُن آہنی ہاتھوں سے جو سرحدوں پر سیسہ پلائے کھڑے ہیں۔
ؔیہ سینے صورت فولاد ڈٹ جاتے ہیں میدان میں
خدا کہتا ہے خود بنیان مرصوص ان کو قرآن میں
ڈی جی آئی ایس پی آر کا ایک ایک لفظ دشمن کے لیے اعلانِ جنگ سے کم نہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیار ہیں، لیکن پہل ہم نہیں کریں گے اور جب دشمن نے اپنی اوقات سے تجاوز کیا تو ہم نے اُسے دکھایا کہ یہ سرزمین تمہارے ناپاک قدموں کے لیے نہیں بنی۔ ہم نے اُسے یاد دلایا کہ یہ وہی زمین ہے جہاں قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ‘‘۔ہمارے فوجی جوان جب اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑتے ہیں تو وہ صرف جنگ نہیں لڑتے۔وہ اپنے وطن کی مٹی، اپنے پرچم اور اپنے شہیدوں کی قسم پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ اس قوم کی بیٹیاں جب اپنے لختِ جگر کو وطن پر قربان کرنے کے لیے دعائیں دیتی ہیں تو دشمن کے ہتھیار اور اُس کے ناپاک عزائم خاک میں مل جاتے ہیں۔ یہ جذبہ، یہ حوصلہ، اور یہ غیرت کسی بھی دشمن کے خواب کو بھیانک حقیقت میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔بھارت کا یہ سمجھنا کہ وہ رات کی تاریکی میں وار کر کے بچ جائے گا، اُس کی سب سے بڑی بھول تھی۔پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ دفاع صرف توپ و تفنگ سے نہیں ہوتابلکہ اس کے پیچھے ایک پوری قوم کی دعائیں، ماں کی آنکھوں سے گرتے آنسو، شہیدوں کے لہو سے لکھی تاریخ اور حب الوطنی کے وہ جذبات ہوتے ہیں جو ہر سپاہی کو فولاد سے بھی سخت بنا دیتے ہیں۔ اس بار بھی دشمن کو وہی سبق ملا جو ماضی میں کئی بار پڑھایا جا چکا ہے۔ یاد رکھیں، یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے پاکستان کو آزمایا ہو۔ لیکن ہر بار اُسے شرمندگی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کارگل، سیاچن، بالاکوٹ، اور اب یہ حالیہ حملہ ،بھارت نے جب بھی آگے بڑھنے کی کوشش کی، اُس کی راہ میں افواجِ پاکستان کی آہنی دیوار کھڑی ہو گئی۔یہ وقت ہے کہ پوری پاکستانی قوم ایک آواز ہو جائے۔ ہم نے دیکھ لیا کہ ہماری افواج اپنی جانوں کی بازی لگا کر سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ اب ہماری باری ہے کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ان کے مورال کو بلند رکھیں۔ ان پر اعتماد کریں اور اُن قوتوں کا مقابلہ کریں جو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہمیں کمزور کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں۔ ہمیں اپنے شہیدوں کی قربانیوں کا قرض ادا کرنا ہے ۔اُن ماؤں کی آنکھوں کا احترام کرنا ہے جنہوں نے بیٹے وطن پر قربان کیے اور ان بچوں کے خوابوں کو تعبیر دینی ہے جنہوں نے ایک آزاد، محفوظ اور خوشحال پاکستان کا خواب دیکھا۔یہ وقت ایک نئے عزم، نئی یکجہتی اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے۔ دشمن کے لیے ہمارا پیغام ایک ہی ہے: تم نے وار کیا، ہم نے جواب دیا۔ لیکن یاد رکھو، اگر دوبارہ کبھی میلی آنکھ سے دیکھا تو یہ جواب اُس سے بھی سخت، اُس سے بھی بھرپور اور اُس سے بھی فیصلہ کن ہو گا۔پاکستان کی سا لمیت، خود مختاری اور عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ہم نہ پہلے جھکے تھے، نہ اب جھکیں گے۔ یہ وطن ہماری پہچان ہے، ہماری غیرت ہے اور ہماری آخری سانس تک اس کے دفاع کے لیے ہم تیار ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔افواجِ پاکستان پائندہ باد

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کی بھارت نے دشمن کے کے لیے سے بھی تھا کہ

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف