بٹ کوائن مائننگ و آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا سینٹرز کیلئے 2 ہزار میگا واٹ بجلی مختص
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک:پاکستان نے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب بڑاقدم اٹھاتے ہوئے بٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا سینٹرز کیلئے 2 ہزار میگا واٹ بجلی مختص کردی۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ڈیجیٹل انقلاب کی جانب پہلا بڑا قدم اٹھالیا، حکومت نے بٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس ڈیٹا سینٹرز کیلئے 2 ہزار میگا واٹ بجلی مختص کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرپٹو کونسل کی قیادت میں ڈیجیٹل معیشت کی نئی راہ ہموار ہوگی،اضافی بجلی کو آمدن کا ذریعہ بنایا جائے گا۔
غزہ:اسرائیلی بمباری سےفلسطینی خاتون ڈاکٹر کے 9 بچے شہید
دوسری جانب عالمی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے،سی ای او پاکستان کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ پاکستان کرپٹو اور اے آئی کا عالمی مرکز بن سکتا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے، ڈیجیٹل اثاثے ملکی معیشت کو نئی سمت دیں گے۔
رپورٹ کے مطابق افریقہ سے 2 سب میرین کیبل کے پاکستان پہنچنے سے انٹرنیٹ مزید تیز ہوگا،پاکستان میں 40 ملین کرپٹو صارفین ہیں اوراس میں خطے میں قیادت کی صلاحیت موجود ہے۔
کوہ پیما سعد منور نے بھی دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے پاکستان کا نام روشن کر دیا
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگلے مراحل میں قابلِ تجدید توانائی پر مبنی ڈیٹا سینٹرز بھی قائم ہوں گے، حکومت کی جانب سے ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات کا اعلان بھی جلد متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈیٹا سینٹرز کی جانب
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔