Islam Times:
2026-06-03@06:10:21 GMT

علامہ سید نیاز حسین بخاری، ایک عہد ساز شخصیت

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

علامہ سید نیاز حسین بخاری، ایک عہد ساز شخصیت

اسلام ٹائمز: علامہ بخاری کی شخصیت میں ایسی سادگی ہے، جو دل کو چھو لیتی ہے، ایسا خلوص ہے، جو اعتماد پیدا کرتا ہے اور ایسی مسلسل قربانی ہے، جو انسان کو جھکا دیتی ہے۔ ​​​​​​​وہ نہ کسی حکومتی عہدے کے خواہاں ہیں، نہ کسی ادارے کے مفاد کے اسیر، بلکہ انکی زبان و قلم فقط خدا، رسولؐ اور آلِ محمدؑ کی خوشنودی کیلئے سرگرم ہیں۔ ایسی شخصیات تاریخ کے اوراق پر صرف نام نہیں، ایک باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انکی موجودگی نسلوں کیلئے سرمایہ ہے۔ انکا سلوک، انکا حلم، انکا وقار۔۔۔ ان سب میں اک ایسی خوشبو ہے، جو انکے جانے کے بعد بھی قلوب میں باقی رہتی ہے۔ ایسے افراد وقت کی مجبوری سے نہیں، تقدیر کی ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں۔ انکا ہونا قوم و ملت کیلئے رحمت اور انکی صحبت ہر سالکِ راہِ خدا کیلئے نعمتِ عظمیٰ ہے۔ تحریر: مولانا احمد فاطمی

کبھی کبھی تاریخ ایسے افراد کو جنم دیتی ہے، جو محض شخصیات نہیں بلکہ زمانوں کا شعور، صدیوں کی فکر اور نسلوں کا وقار بن جاتے ہیں۔ ایسے نفوس قدسیہ، اپنے وجود سے زمان و مکان کو معنی دیتے ہیں، ان کی خاموشی بھی گویائی کی تاثیر رکھتی ہے اور ان کی مسکراہٹ بھی رشد و ہدایت کا دروازہ کھولتی ہے۔ انہی میں سے ایک تابناک اور پُرمعنویت شخصیت حضرت علامہ سید نیاز حسین بخاری دامت برکاتہم العالیہ کی ہے، جنہوں نے نہ صرف دینِ مبین کی راہوں کو منور کیا بلکہ ہزاروں نفوس کو فکری، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے سنوارا۔ علامہ سید نیاز حسین بخاری دامت برکاتہم العالیہ صرف ایک عالم دین نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک روحانی روایت، ایک فکری تحریک اور ایک تربیتی مکتب کا عنوان ہیں۔ ان کی زندگی، علم، تقویٰ، اخلاص، متانت اور بصیرت کا حسین امتزاج ہے، جس نے کئی نسلوں کو شعور بخشا، کئی قلوب کو مطمئن کیا اور کئی افکار کو سمت عطا کی۔

علامہ سید نیاز بخاری ضلع اٹک کے ایک ایسے خانوادۂ سادات سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں روحانیت اور علم دونوں نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ بچپن ہی سے سنجیدگی، متانت اور دینی رجحان نے آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا کیا۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ علمی مدارج تک، آپ نے اپنے علم و کردار سے ثابت کیا کہ آپ نہ صرف دینی علوم کے طالب تھے بلکہ حقیقی معارف کے سالک بھی۔ آپ کی علمی نشستیں، آپ کی درسی مجالس اور خطابات، سننے والوں پر ایسا اثر چھوڑتے ہیں، جو صرف الفاظ نہیں بلکہ افکار و احساسات کی دنیا بدل دیتا ہے۔ آپ نے تعلیم کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ دلوں کو روشن کرنے، کردار سنوارنے اور ارواح کو جِلا بخشنے کا ذریعہ بنایا۔

آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو آپ کی مربیانہ حیثیت ہے۔ آپ صرف ایک معلم نہیں، ایک رہبر، ایک پدرِ روحانی اور ایک مربیِ کامل ہیں۔ ہزاروں شاگردوں نے آپ سے صرف علم ہی نہیں لیا، بلکہ تربیت، تواضع، حلم، بردباری اور اخلاص کا درس بھی پایا۔ آپ کی تربیت کردہ نسل آج ملک و ملت کے مختلف میدانوں میں چراغاں کر رہی ہے۔۔ بندۂ حقیر کو بھی یہ سعادت نصیب ہوئی کہ کم و بیش سترہ برس قبل آپ کی شاگردی میں داخل ہوا۔ اُس وقت جب مکتبِ قرآن و اہلبیت علیہم السلام کے ابتدائی حروف سیکھ رہا تھا، تو آپ ہی وہ پہلی شخصیت تھے، جنہوں نے علم کا چراغ میرے ہاتھوں میں تھمایا۔ آپ ہی کی اقتداء میں نماز کا پہلا سجدہ ادا کیا اور آپ ہی کے زیرسایہ بندگیِ ذاتِ احدیت کا پہلا سبق سیکھا۔

علامہ بخاری کی شخصیت میں علم کی روشنی، حلم کا سکون، وقار کی شان اور محبت کی گرمی بیک وقت موجود ہیں۔ وہ جب بولتے ہیں تو ان کے الفاظ دل میں اتر جاتے ہیں اور جب خاموش ہوتے ہیں تو ان کی خاموشی بھی سکوتِ عرفان بن جاتی ہے۔ ان کی گفتگو میں ایسی کشش ہے کہ سننے والا نہ صرف معلومات حاصل کرتا ہے بلکہ اپنی ذات کے اندر تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ ان کا رویہ اپنے شاگردوں کے ساتھ صرف ایک استاد کا نہیں بلکہ والدانہ شفقت کا مظہر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے فقط ایک طالب علم کی نظر سے نہیں دیکھا، بلکہ ایک فرزند کی مانند پرورش کی، میری فکری تربیت کی اور قدم قدم پر رہنمائی فرمائی۔

آج اگر لوگ مجھے "احمد فاطمی" کے نام سے جانتے ہیں، اگر میرے افکار میں کوئی پختگی، میری گفتگو میں کوئی تاثیر اور میری تحریر میں کوئی شعور پایا جاتا ہے، تو یہ سب اسی عظیم شخصیت کی اولین کاوشوں اور دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ میں جو کچھ بھی ہوں، انہی کی کاشت کردہ بیج کا ثمر ہوں، جو اللہ کے فضل، اہل بیت علیہم السلام کے لطف اور علامہ صاحب کی رہنمائی سے نشوونما پایا۔ علامہ سید نیاز بخاری کی شخصیت کا مقام صرف منبر، محراب یا درسگاہ تک محدود نہیں۔ وہ اُن افراد میں سے ہیں، جو دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ جن کی موجودگی خود ایک روحانی کیفیت ہوتی ہے، جن کی دعائیں نجات کا وسیلہ اور جن کی خاموشی بھی درسِ معرفت ہے۔

یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں کہ کوئی عالم دین فقط منبر و محراب کا امین ہی نہ ہو، بلکہ اپنے دور کی فکری و انقلابی نبض پر بھی دستِ رسائی رکھتا ہو۔ علامہ بخاری اُن معدودے چند افراد میں سے ہیں، جنہوں نے امام خمینیؒ کے پیغام کو فقط ایرانی انقلاب کا عنوان نہ سمجھا، بلکہ اُسے قرآنی تفسیر، علوی حکمت اور فاطمی غیرت کا زندہ تسلسل جانا۔ وہ جانتے تھے کہ امام خمینی صرف ایک سیاسی قائد نہیں بلکہ زمانے کے وجدان کی تعبیر ہیں، جنہوں نے دین کو محراب کی تنہائی سے نکال کر قصرِ ظلم پر ضربِ کاری بننے کا شعور دیا۔ علامہ بخاری نے اس شعور کو اپنی درسی مجالس، تبلیغی محفلوں اور شاگردوں کی تربیت میں ایک مستقل مزاجی سے پروان چڑھایا۔

یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ علامہ بخاری نے اپنے فکری اور انقلابی رجحان کی راہ میں نامساعد حالات، معاشی مشکلات، معاشرتی رکاوٹوں، ادارہ جاتی سرد مہری اور بعض مذہبی طبقات کی مخالفت کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ انہوں نے کبھی بھی مصلحت کو فکر پر غالب نہ آنے دیا اور نہ ہی سیاسی فوائد کو نظریاتی سچائی پر قربان کیا۔ ان کی مجالس میں ولایت فقیہ کے تذکرے ہوں یا انقلاب اسلامی کے اصول، سامراج کی مخالفت ہو یا مظلومینِ جہاں سے ہمدردی، ہر پہلو میں امام خمینی کی روحانی خوشبو اور فکری وضاحت جھلکتی ہے۔ وہ عصر حاضر کے اُن بے مثال علماء میں سے ہیں، جنہوں نے نہ صرف خود حق کو پہچانا، بلکہ دوسروں کو اس کی طرف رہنمائی بھی کی اور وہ بھی بغیر خوف، بغیر جھجک، بغیر مصلحت۔

انہوں نے شاگردوں کی ایسی نسل تیار کی، جو صرف مقلد نہیں بلکہ محقق، مجاہد اور مصلح بھی بن سکے۔ ان کے حلقۂ تربیت میں ولایت فقیہ ایک خشک نظریہ نہیں، بلکہ عشق کا عنوان ہے۔ جب بھی ضلع اٹک کے دینی و فکری افق پر نگاہ ڈالی جائے، ایک نام ایسا ہے، جو روشنی کا استعارہ بن کر ہر دل پر نقش ہوتا ہے۔۔۔۔ علامہ سید نیاز حسین بخاری دامت برکاتہم۔ وہ فقط ایک عالم دین یا خطیب نہیں، بلکہ اس خطے کے لیے ایک روحانی سائبان، فکری رہنماء اور مخلص مربی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کی پوری حیات کا لبِ لباب، ان کی ہر کاوش کا مرکز و محور اور ان کی ہر بات کا مقصد تبلیغِ ولایت ہے۔

علامہ بخاری نے علم فقط درس و تدریس کی سطح پر محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے تربیت، تزکیہ اور بصیرت سے جوڑ کر حقیقی معنیٰ میں مربی کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے نوجوان نسل کو نہ صرف قرآن و عترت کے علوم سے آشنا کیا، بلکہ ان کے دلوں میں محبتِ علیؑ، معرفتِ ولایت اور شعورِ عصر کو بھی جاگزیں کیا۔ ضلع اٹک میں ان کی موجودگی ایسی ہے، جیسے بنجر زمین پر شبنم کی بارش۔۔۔۔ خاموش، مگر زندگی بخش۔ علامہ بخاری کی شخصیت میں ایسی سادگی ہے، جو دل کو چھو لیتی ہے، ایسا خلوص ہے، جو اعتماد پیدا کرتا ہے اور ایسی مسلسل قربانی ہے، جو انسان کو جھکا دیتی ہے۔

وہ نہ کسی حکومتی عہدے کے خواہاں ہیں، نہ کسی ادارے کے مفاد کے اسیر، بلکہ ان کی زبان و قلم فقط خدا، رسولؐ اور آلِ محمدؑ کی خوشنودی کے لیے سرگرم ہیں۔ ایسی شخصیات تاریخ کے اوراق پر صرف نام نہیں، ایک باب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی موجودگی نسلوں کے لیے سرمایہ ہے۔ ان کا سلوک، ان کا حلم، ان کا وقار۔۔۔ ان سب میں اک ایسی خوشبو ہے، جو ان کے جانے کے بعد بھی قلوب میں باقی رہتی ہے۔ ایسے افراد وقت کی مجبوری سے نہیں، تقدیر کی ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا ہونا قوم و ملت کے لیے رحمت اور ان کی صحبت ہر سالکِ راہِ خدا کے لیے نعمتِ عظمیٰ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ سید نیاز حسین بخاری بخاری کی شخصیت کی شخصیت میں علامہ بخاری کی موجودگی نہیں بلکہ جنہوں نے انہوں نے کرتا ہے صرف ایک کے لیے بلکہ ا اور ان

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان