متحدہ نے لیاری عمارت حادثے کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈال دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
شہر قائد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ صوبے میں 17 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن کوئی بہتری نہیں آئی، کراچی کو بھی مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کی ذمہ داری سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ہیں، تمام حادثات کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایم کیو ایم پاکستان کے راہنماء اور اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے لیاری عمارت حادثے کی ذمہ داری سندھ حکومت پر ڈال دی۔ شہر قائد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی کا کہنا تھا کی حالیہ حادثہ اور ماضی میں ہونے والے تمام حادثات کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بلڈنگ حادثے کی مذمت نہیں بلکہ ذمہ دار افسران کی مرمت کریں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں 17 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن کوئی بہتری نہیں آئی، کراچی کو بھی مافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، لیاری میں عمارت گرنے کے واقعے کی ذمہ داری سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی ہیں، تمام حادثات کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، صدر آصف زرداری اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو مذمت نہیں ذمہ داروں کی مرمت کریں۔ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کا کہنا ہے کہ کراچی کو مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، عمارت گرنے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، اخلاقی طور پر وزیر بلدیات کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی میں سسٹم اور مافیاز کی حکومت ہے، کراچی میں بے ہنگم تعمیرات 15 سالوں سے عروج پر ہے، غیر قانونی تعمیرات ایس بی سی اے کی ملی بھگت سے ہوتی ہے، ایس بی سی اے نے غیر قانونی عمارتوں پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں کا کام صرف اتنا نہیں ہوتا کہ وہ نوٹس جاری کرکے بیٹھ جائے، مخدوش عمارتوں کو ایس بی سی اے نوٹس جاری کرکے اپنی جان چھڑاتی ہے، حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ آئندہ 4 ماہ میں تبدیلی آنے والی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ذمہ دار حکومت ہے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔