وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی، جبکہ ایس بی سی اے سے بوسیدہ عمارتوں کی فوری تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں 5 منزلہ عمارت گر گئی، جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ عمارت کے ملبے تلے پھنسے لوگوں کو نکالنے کےلیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے ملبے سے 4 لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 6 افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے، زخمیوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق ایک زخمی کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 5 زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ ہیوی مشینری کی مدد سے عمارت کے ملبے کو ہٹایا جارہا ہے، متاثرہ عمارت کے ساتھ موجود 7 منزلہ عمارت کو خالی کروا دیا گیا جبکہ ملبے کے قریب جمع لوگوں کو ہٹانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ نے واقعے کا نوٹس لے لیا، رپورٹ طلب
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی، جبکہ ایس بی سی اے سے بوسیدہ عمارتوں کی فوری تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ خطرناک عمارتوں کی فوری نشاندہی کی جائے۔ غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں، انسانی جانوں کا تحفظ ترجیح ہے۔

وزیر بلدیات کی فوری ریسکیو کام مکمل کرنے کی ہدایت
ترجمان وزارت بلدیات سندھ کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات سعید غنی نے ریسکیو کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے اور عمارت میں پھنسے افراد کو باہر نکالنے کی ہدایت کردی۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ عمارت کے اطراف رکاوٹوں کو دور کرکے ریسکیو آپریشن تیز کیا جاہے، عمارت گرنے کی وجوہات کی فوری رپورٹ پیش کی جائے۔ ادھر عمارت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے محکمہ بلدیات نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی ہے جو 3 دن کے اندر کوتاہی برتنے والے افسران کی نشاندہی کرے گی۔ ترجمان کے مطابق وزیر بلدیات نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے مطابق عمارت کے طلب کرلی کا کہنا کی فوری کا نوٹس

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود