لڑائی ختم ہوچکی، احتجاج کس بات کا؟ — خواجہ آصف کا مظاہرین پر طنز
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے حالیہ پرتشدد مظاہروں پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ ٹوئٹ کی ہے، جس میں انہوں نےمذہبی جماعت کے احتجاج کو غیر ضروری اور حالات سے لاعلمی قرار دیا ہے۔
اپنی ٹوئٹ میں خواجہ آصف نے کہا،غزہ میں جنگ بندی ہو چکی ہے اور یہاں جی ٹی روڈ پر جلوس نکالا جا رہا ہے۔ ان کو شاید بتایا نہیں گیا کہ لڑائی ختم ہو چکی ہے۔انہوں نے مظاہرین کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا’’لڑائی مک گئی اے، تسی کس گل دا احتجاج کردے پے او؟‘‘
وزیرِ دفاع نے یاد دلایا کہ جب گزشتہ دو سالوں کے دوران غزہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے، بچوں کا قتل عام جاری تھا، تو اس وقت دنیا بھر میں لوگ سراپا احتجاج تھے، حتیٰ کہ غیر مسلم ممالک میں بھی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی تھی۔ لیکن پاکستان میں جو لوگ آج سڑکوں پر ہیں، انہیں شاید اس وقت کی خبر ہی نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اب جب اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہے، ایسے میں یہ مظاہرے اور پرتشدد رویہ سمجھ سے باہر ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ احتجاج کے دوران حالات خاصے کشیدہ ہو گئے ہیں۔پولیس کے 112 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں اور کئی لاپتا ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بعض مظاہرین نے اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا ہوا ہے، جبکہ سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق مظاہرین جو کچھ بھی ہاتھ لگتا ہے، اسے نقصان پہنچا رہے ہیں اور پرامن احتجاج کی بجائے پرتشدد طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، جس سے شہریوں کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔