پی ٹی آئی کے بیرون ملک گئے ہوئے اراکین اسمبلی کو فوری طلب کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پی ٹی آئی کے بیرون ملک گئے ہوئے اراکین اسمبلی کو فوری طلب کر لیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 October, 2025 سب نیوز
پشاور (آئی پی ایس )خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے خصوصی ٹیم کو ٹاسک دے دیا ہے اور بیرون ملک گئے ہوئے اراکین صوبائی اسمبلی کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماں کو بھی پشاور طلب کر لیا گیا ہے اور بانی پی ٹی آئی کی جانب سے مرکزی اور صوبائی رہنماں کو متحد رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور صوبے میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنید اکبر، اسد قیصر اور بابر سلیم سواتی کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے ذرائع کے مطابق لیگل ٹیم سے وزیراعلی کے انتخاب کے لیے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور آئندہ 72 گھنٹوں میں وزیر اعلی کا انتخاب ہو جائے گا اور حالیہ صورت حال پر اپوزیشن کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ بیرون ملک گئے ہوئے پی ٹی آئی اراکین صوبائی اسمبلی کو بھی فوری طور پر واپس بلا لیا گیا ہے، بیرون ملک موجود اراکین صوبائی اسمبلی میں عارف احمد زئی، نذیر عباسی، تاج محمد ترند پاکستان پہنچ گئے ہیں، آصف محسود اور شیر علی آفریدی بھی بھی وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے بیرون ملک سے واپس آگئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا اترپردیش میں دارالعلوم دیوبندکا دورہ،علماء اور طلباء سے ملاقات افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کا اترپردیش میں دارالعلوم دیوبندکا دورہ،علماء اور طلباء سے ملاقات مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا،قانون ہاتھ میں لینے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا، آئی جی پنجاب مریم نواز کا پنجاب میں ٹیکس فری سعودی انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا اعلان پیوٹن کی نوبل امن انعام کمیٹی پر شدیدتنقید، عالمی بحرانوں کے حل کیلئے ٹرمپ کی کوششوں کی تعریف وزیراعلی خیبرپختونخوا کا انتخاب: پی ٹی آئی اراکین حمایت کیلئے جے یو آئی مرکز پہنچ گئے نائب وزیراعظم کا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ، مصر میں ہونے والے سربراہی اجلاس پر مشاورتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بیرون ملک گئے ہوئے طلب کر لیا گیا اسمبلی کو پی ٹی آئی کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں