تہران یونیورسٹی کے علاوہ تہران میڈیکل سائنسز، شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، تربیات مودارس یونیورسٹی، شاہد بہشتی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، ایران میڈیکل سائنسز، اور تبریز میڈیکل سائنسز بھی ان یونیورسٹیوں میں شامل ہیں جن کی درجہ بندی 50 سے نیچے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تائمز نے امیر کبیر یویورسٹی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی درجے کے لحاظ سے سب سے پہلی درسگاہ قرار دیا ہے اور تہران یونیورسٹی 10 پہلی اسلامی یونیورسٹیوں میں شامل ہے۔ اسلامک ورلڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سیٹیشن اینڈ مانیٹرنگ انسٹی ٹیوٹ (ISC) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی کو اسلامی دنیا کی دس بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسلامک ورلڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سیٹیشن اینڈ مانیٹرنگ انسٹی ٹیوٹ (ISC) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تہران یونیورسٹی کو اسلامی دنیا کی دس بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

اس درجہ بندی میں داخل ہونے کا بنیادی معیار 2020 سے 2022 کے دوران ویب آف سائنس (WOS) کے ڈیٹا بیس میں کم از کم 500 دستاویزات کا رجسٹر ہونا ہے اور اس درجہ بندی کے نظام میں موجود یونیورسٹیوں کی تعداد میں ایران 138 یونیورسٹیوں کے ساتھ ترکی کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ تہران یونیورسٹی کے علاوہ تہران میڈیکل سائنسز، شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، تربیات مودارس یونیورسٹی، شاہد بہشتی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، ایران میڈیکل سائنسز، اور تبریز میڈیکل سائنسز بھی ان یونیورسٹیوں میں شامل ہیں جن کی درجہ بندی 50 سے نیچے ہے۔

امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ٹائمز 2026 کی درجہ بندی میں سرفہرست ہے۔ ٹائمز 2026 کی عالمی درجہ بندی میں 101 ایرانی یونیورسٹیوں کو دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے طور پر درج کیا گیا، جس میں امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، کرمانشاہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ساتھ ملک کی یونیورسٹیوں میں سرفہرست ہے۔ امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو 400-351 رینج میں کرمانشاہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر پہلا درجہ دیا گیا ہے۔

امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کا ریسرچ کوالٹی سکور 75.

3 پر متاثر کن ہے، اور انڈسٹری کا سکور 91.9 ہے۔ امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، کرمانشاہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اور شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے بعد، دو یونیورسٹیوں، ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف تہران کے نام بالترتیب 401-500 کی حد میں نظر آتے ہیں۔ شیراز یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور تہران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کی درجہ بندی بالترتیب 600-501 کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔

601-800 کے درمیان کی رینج میں، البرز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، بابول نوشیروانی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، بابول یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، گولستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، ایران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اصفہان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اصفہان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، لرستان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، قزوین یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، شاہین یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، شاہین یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، شاہین یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز۔ تبریز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، تربیات مودارس یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، تبریز یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، اور ارمیا یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کو اسی ترتیب میں دیکھا جاتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امیرکبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز یونیورسٹیوں میں تہران یونیورسٹی کی درجہ بندی

پڑھیں:

فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی

دنیائے کھیل کا سب سے بڑا اور مقبول ترین میلہ ’فیفا فٹبال ورلڈکپ 2026‘  اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔

فٹبال کی تاریخ کا یہ اب تک کا سب سے انوکھا اور تاریخی ٹورنامنٹ ہوگا جس کی مشترکہ میزبانی امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کر رہے ہیں۔

اس بار ورلڈکپ محض ایک کھیل نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار 32 کے بجائے 48 ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:104 میچز، 48 ٹیمیں اور اربوں شائقین، فیفا ورلڈ کپ 2026 میں کیا کچھ نیا ہونے جارہا ہے؟

جہاں شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، وہی کھیلوں کے معروف ڈیٹا ماڈل ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے 10 ہزار سیمولیشنز تیار کر کے فاتح ٹیم کے حوالے سے ایک سنسنی خیز پیشگوئی کر دی ہے۔

ٹورنامنٹ کا نیا فارمیٹ اور راؤنڈ آف 32 کا تاریخی آغاز

ماضی کے برعکس اس بار ٹورنامنٹ کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں شریک 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہے۔

اس نئے فارمیٹ کے تحت ایونٹ کے دوران مجموعی طور پر ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ ہر گروپ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں کوالیفائی کریں گی، جس سے ایونٹ کی تاریخ میں پہلی بار ’راؤنڈ آف 32′ کا سنسنی خیز آغاز ہوگا۔

زیادہ ٹیموں کی شمولیت کے باعث جہاں مقابلوں کا جوش بڑھے گا، وہیں کسی بھی ٹیم کے لیے فائنل تک کا سفر طویل اور تھکا دینے والا ہوگا۔

اوپٹا سپر کمپیوٹر کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

شائقین فٹبال کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ’اوپٹا سپر کمپیوٹر‘ کوئی روایتی فزیکل کمپیوٹر نہیں ہے۔ یہ دراصل آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتہائی ایڈوانس ماڈل ہے جو فٹبالرز اور ٹیموں کے موجودہ فارم، ماضی کے ریکارڈز اور ہزاروں دیگر ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرتا ہے۔

یہ ماڈل ڈیٹا کی بنیاد پر پورے ٹورنامنٹ کو 10 ہزار سے زیادہ بار ڈیجیٹل طور پر سیمولیٹ کرتا ہے اور پھر پیشگوئی کرتا ہے کہ کس ٹیم کے ٹورنامنٹ جیتنے، فائنل میں پہنچنے یا کسی خاص میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے کتنے فیصد امکانات موجود ہیں۔

’اسپین‘ فیورٹ، مگر ایک بڑا دھچکا بھی

اوپٹا سپر کمپیوٹر کی 10 ہزار ڈیجیٹل سیمولیشنز کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں، انہوں نے فٹبال کی دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماڈل نے تمام تر غیریقینی صورتحال کے باوجود ’اسپین‘ کو ٹرافی جیتنے کے لیے واضح طور پر فیورٹ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:   اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

 سپر کمپیوٹر کے مطابق اسپین کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 16.1 فیصد ہے۔ تاہم دلچسپ اور پریشان کن بات یہ ہے کہ جہاں اسپین کو فاتح قرار دیا گیا ہے، وہیں ڈیٹا یہ بھی بتاتا ہے کہ اسپین وہ واحد بڑی ٹیم ہے جس کے کوارٹر فائنل تک نہ پہنچنے کا امکان 52.1 فیصد ہے۔ یعنی اگر اسپین ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے عبور کرنے میں کامیاب رہا، تو اس کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا امکان 39 فیصد جبکہ فائنل میں پہنچنے کا امکان 25.6 فیصد ہوگا۔

دیگر بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات

سپر کمپیوٹر کے مطابق ٹرافی کی دوڑ میں اسپین تنہا نہیں ہے بلکہ دیگر روایتی حریف بھی اس کے تعاقب میں ہیں۔ سپر کمپیوٹر نے 4 بڑی ٹیموں کے جیتنے کے امکانات کو 10 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ اس فہرست میں فرانس دوسرے نمبر پر ہے جس کے ورلڈکپ جیتنے کا امکان 13 فیصد ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح انگلینڈ 11.2 فیصد امکان کے ساتھ تیسرے اور لیونل میسی کی ارجنٹینا (دفاعی چیمپیئن) 10.4 فیصد امکان کے ساتھ چوتھے نمبر پر ممکنہ فاتح قرار دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسپین امریکا اوپٹا سپر کمپیوٹر برطانیہ ٹیم فیورٹ حیران کن پیش گوئی فیفا ورلڈ کپ لندن ورلڈ کپ۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان