جھانوی کپور نے ’’بفیلو پلاسٹی‘‘ کروائی ہے؟ اداکارہ کا بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کی کوئین آنجہانی اداکارہ سری دیوی کی بیٹی اداکارہ جھانوی کپور نے اپنے بارے میں وائرل ہونے والی کاسمیٹک سرجری کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اُنہوں نے کوئی ’’بفیلو پلاسٹی‘‘ نامی کاسمیٹک سرجری نہیں کروائی۔
ایک ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے جھانوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ ’’خود کو ڈاکٹرز کہنے والے یوٹیوبرز‘‘ نے اُن کے چہرے کا تجزیہ کر کے دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے یہ سرجری کروائی ہے، جو دراصل ایک من گھڑت کہانی ہے۔
یاد رہے کہ بفیلو پلاسٹی یا ’بل ہارن لپ لفٹ‘ ایک ایسی سرجری کو کہا جاتا ہے جس میں ناک اور اوپری ہونٹ کے درمیان کی جگہ کو معمولی سا کم کیا جاتا ہے تاکہ ہونٹ قدرتی طور پر بھرے ہوئے دکھائی دیں۔
جھانوی کپور نے اس طرح کی افواہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیوز نوجوان لڑکیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا، ’’اگر کوئی کم عمر لڑکی اس طرح کی باتوں پر یقین کر کے غیر محفوظ طریقہ اختیار کرے تو یہ بہت خطرناک ہوگا‘‘۔
اداکارہ نے زور دیا کہ خوبصورتی بڑھانے سے متعلق معاملات میں آگاہی ضروری ہے تاکہ لوگ سوشل میڈیا کے گمراہ کن دعوؤں سے بچ سکیں اور کوئی ایسی سرجری نہ کروا بیٹھیں جس کو کسی اداکارہ کے نام کے ساتھ جوڑا گیا ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔