پی آئی اے کی 5سال بعد برطانیہ کیلئے پروازیں بحال ‘ پہلی فلائٹ مانچسٹر پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
راولپنڈی+مانچسٹر (سٹاف رپورٹر+نمائندہ خصوصی) پی آئی اے کی جولائی 2020ء کے بعد اسلام آباد سے پہلی پرواز 284 مسافر لیکر مانچسٹر پہنچ گئی پی ائی اے کی پرواز کو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے الوداع کیا ، پرواز کی روانگی سے قبل ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزرات دفاع، سفارتی مشن اور ہوابازی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کیوزیر دفاع نے کہا کہ یہ پرواز دونوں ملکوں اور لوگوں کے مابین تعلقات کو مستحکم کرے گی۔ وزیر دفاع نے پی آئی اے حکام کو ہدایات دیں کہ وہ شیڈول اور جہازوں کے کیبن کو مزید بہتر بنائیں اور پروازوں کی تعداد کو بڑھانے کیلئے اقدامات کریں۔ قرعہ اندازی کے ذریعے ایک 660 سی سی گاڑی بھی ایک خوش نصیب مسافر کے نام نکالی گئی جبکہ دیگر مسافروں کو بھی موبائل فون اور تحائف پیش کئے گئے۔ تقریب کے مہمانان گرامی کو چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے کی جانب سے یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ ابتدائی طور پر پی ائی اے نے ہفتہ وار دو پروازوں کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا جو منگل اور ہفتے کے روز اپریٹ ہوں گی۔ پروازوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا اور لندن اور برمنگھم کیلئے بھی پروازیں شروع کی جائیں گی۔ پی آئی اے فلائٹ کا مانچسٹر پہنچنے پر قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل، ممبر برطانوی پارلیمنٹ افضل خان، ایم پی یاسمین قریشی، ٹریڈ کمرشل سیکرٹر ی اویس حسین فاروقی، - کمیونٹی ویلفیئر اتاشی مصباح نورین، آفیسر چودھری عامر نے مسافروں کا استقبال کیا۔ پی آئی اے سی ای او عامر آفتاب خصوصی طور پر پاکستان سے آئے۔ فلائٹ میں آنے والوں اور جانے والوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ برطانیہ میں رہنے والے اوورسیز پاکستانیوں نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیس گھنٹے کے بعد پہنچتے تھے اب آٹھ گھنٹوں میں پہنچ جایا کریں گے۔ سی ای او پی آئی اے نے کہا کہ بہت جلد دوسرے شہروں سے بھی برطانیہ کے لئے پروازوں کا آغاز ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے ئی اے کی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔