خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا میرا یا میری پارٹی کا مطالبہ نہیں ہے: بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے حامی نہیں ہوں۔
لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ ملکی فضا کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر سنگین خطرات سے دوچار ہے، افغانستان سے درپیش خدشات درست ثابت ہورہے ہیں لیکن پاکستانی فوج بہادری سے ان چیلنجز کا مقابلہ کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سیاست اپنی جگہ مگر ملکی سلامتی اولین ترجیح ہے، اس موقع پر سب کو فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے، خیبر پختونخوامیں گورنر راج لگانا میرا یا میری پارٹی کا مطالبہ نہیں ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مریم نواز کے سندھ سے الیکشن لڑنے کے امکان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات لازمی ہیں، تاکہ کسی وزیرِاعظم یا وزیرِاعلیٰ پر ’سلیکٹڈ‘ یا ’فارم 47‘ جیسے تنازعات دوبارہ جنم نہ لیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض سیاسی عناصر اپنے رویے سے حالات مزید خراب کر رہے ہیں اور ایک جماعت تو ایسا کردار ادا کر رہی ہے جو عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھانے کی کوشش کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست کو سیاسی دائرے تک محدود رکھنا چاہیے، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ملک کے لیے نقصان دہ ہے، اگر صوبے میں کوئی قوت دہشت گردوں کی مددگار ثابت ہوئی تو پھر ایسے سخت اقدام پر غور ناگزیر ہوجائے گا۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے کے پی میں گورنر راج کا مطالبہ نہیں کیا، نہ ہی میں کسی پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے حق میں ہوں، مگر اگر کسی گروہ کی پشت پناہی سے دہشت گردی نے سر اٹھایا تو ریاست کو فیصلہ کن اقدام پر مجبور ہونا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پیپلز پارٹی بلاول بھٹو
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔