سندھ کے پانی کے دفاع کیلئے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے، عمر ایوب
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اپنے ایک ویڈیو بیان میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم سندھ کے پانی کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے، سندھ کے پانی کے دفاع کے لئے اپوزیشن جماعتوں اور وکلاء نے بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نہریں بنانے کا فیصلہ ابھی مؤخر ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پی ٹی آئی کے مرکزی راہنما و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ ہم سندھ کے پانی کے دفاع کیلئے سیسہ پلائی دیوار بنے رہے، متنازعہ نہروں کے خلاف سندھ کے عوام کی جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اپنے ایک ویڈیو بیان میں عمر ایوب نے دریائے سندھ بچاؤ تحریک، اپوزیشن جماعتوں، وکلاء برادری، حلیم عادل شیخ کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے 6 ماہ قبل سندھ کے پانی پر ڈاکا ڈالنے کے خلاف پارلیمنٹ میں بھی آواز اٹھائی تھی، الیکشن سے کچھ گھنٹے قبل ایکنک کی میٹنگ میں سندھ کا پانی چوری کر کے چولستان کو دینے کی اجازت دی گئی۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ 8 جولائی 2024ء کو آصف علی زرداری نے گرین پاکستان انیشیٹیو کے نام سے ایک اجلاس کی صدارت کی، اس میں آصف علی زرداری نے اجازت دی جس کی ہم نے دستاویزات پیش کی ہیں۔
پی ٹی آئی راہنما نے کہا کہ ہم سندھ کے پانی کے دفاع کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے، سندھ کے پانی کے دفاع کے لئے اپوزیشن جماعتوں اور وکلاء نے بھرپور کردار ادا کیا۔ عمر ایوب نے واضح کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نہریں بنانے کا فیصلہ ابھی مؤخر ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سندھ کے پانی کے دفاع کے لئے عمر ایوب
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔