اسلام آباد:جوڈیشل کمیشن اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی منظوری دے دی گئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں جسٹس اعجاز سواتی کو بلوچستان ہائی کورٹ کا مستقل چیف جسٹس لگانے کی منظوری دے دی گئی۔ واضح رہے کہ جسٹس اعجاز سواتی بطور قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کام کر رہے تھے۔

جسٹس اعجاز سواتی

جسٹس محمد اعجاز سواتی6جون1963 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم تعمیر نو پبلک اسکول کوئٹہ سے حاصل کی اور ایم ۔ اے جامعہ بلوچستان سے انگلش میں کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1988میں یونیورسٹی لا کالج کوئٹہ سے ایل۔ ایل۔ بی مکمل کیا۔

جسٹس محمد اعجاز سواتی 28 نومبر 1991 میں عدالت عالیہ اور 18 اپریل 2007 کو عدالت عظمیٰ پاکستان سے بطور وکیل منسلک ہوئے۔ 5 اپریل 2002 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت تربت میں بحیثیت جج تعینات ہوئے اور 14 اکتوبر 2003 میں ذاتی وجوہات کی بنا پر مستعفی ہو گئے۔

ان کی قانونی پریکٹس 22 سال پر محیط ہے جس میں وہ ضلعی عدالتوں ، عدالت عالیہ بلوچستان ، وفاقی شرعی عدالت اور عدالت عظمیٰ پاکستان میں پیش ہوئے۔

جسٹس محمد اعجاز سواتی 27اکتوبر1994ءکو نیشنل بینک آف پاکستان کے قانونی مشیر مقرر ہوئے اور نیشنل بینک کے پینل پر کام کیا۔ جسٹس محمد اعجاز سواتی نے پہلی صوبائی جوڈیشل کانفرنس جو کہ 14اپریل2002کو منعقد ہوئی، میں شرکت کی۔

جسٹس محمد اعجاز سواتی30اگست 2013کو عدالت عالیہ بلوچستان میں بطور ایڈیشنل جج تعینات ہوئے۔ وہ 2ستمبر 2015کو مستقل جج بنے۔

جسٹس محمد اعجاز سواتی نے بطور قائم مقام چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان اپنے منصب کا حلف 14 فروری 2025 کو اٹھایا اور آج 19 مئی 2025ء کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے ان کی بلوچستان ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس تقرر کی منظوری دے دی۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جسٹس محمد اعجاز سواتی کے مستقل چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن عدالت عالیہ کی منظوری

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم