سندھ میں انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—فائل فوٹو
سندھ میں انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
یہ فیصلہ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ بھر میں منشیات کے 9676 کیسز کا غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
سندھ میں ہیوی ٹرانسپورٹ ڈرائیونگ لائسنس کے لیے 30 گھنٹے کی تربیت لازمی قرار دے دی گئی۔
سندھ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ شہر میں منشیات کے 7769 مقدمات زیرِ التواء ہیں۔
اجلاس میں کراچی میں 3، دیگر شہروں میں1، 1 انسدادِ منشیات کی عدالت قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔
سندھ کابینہ نے وزیرِ اعظم کے خواتین بااختیار پیکیج میں شمولیت کی منظوری دے دی۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر سال صنفی برابری کی رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔
انہوں نے سندھ کابینہ کے ویمن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کو قواعد میں ترامیم کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سندھ مراد علی شاہ سندھ کابینہ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔