Islam Times:
2026-07-24@05:55:36 GMT

گلگت، سانحہ 1988ء کی برسی کی تقریب

اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT

مقررین نے سانحہ 1988ء کے ساتھ ساتھ شہید قائد 2005ء کا سانحہ، سانحہ کوہستان، چلاس، لولوسر، اور دیگر متعدد سانحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام واقعات میں ملت کے ساتھ ریاست نے مسلسل سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا، اور انصاف کی فراہمی میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی برسی کے حوالے سے تقریب کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت اور ہئیت آئمہ جماعت کے زیر اہتمام مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت میں سانحہ 1988ء کی مناسبت سے ایک پر اثر برسی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔ مقررین نے اس موقع پر سانحہ 1988ء کو ملت تشیع کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ریاستی سرپرستی میں ایک منظم اور پری پلان سازش کے تحت پیش آیا، جس میں بیرونی تکفیری دہشت گردوں کو لا کر ملت تشیع پر حملے کروائے گئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ظلم عظیم کی آج تک نہ تو کوئی آزادانہ تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی مجرموں کو سزا دی گئی، جس پر ملت میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ مقررین نے سانحہ 1988ء کے ساتھ ساتھ شہید قائد 2005ء کا سانحہ، سانحہ کوہستان، چلاس، لولوسر، اور دیگر متعدد سانحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام واقعات میں ملت کے ساتھ ریاست نے مسلسل سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا، اور انصاف کی فراہمی میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ مقررین نے کہا کہ جب تک قانون کی رٹ قائم نہیں ہو گی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی، تب تک امن کی کوئی ضمانت ممکن نہیں۔ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے، مگر گلگت بلتستان میں ملت تشیع کے خلاف ہونے والے مظالم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اپنی اس بنیادی ذمہ داری سے مسلسل غفلت برت رہی ہے۔ برسی کے اختتام پر شہداء کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملت اپنے حقوق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی