پاکستان کا ریونیو 18 ٹریلین روپے ہوگیا، آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ گزشتہ 2 سالوں میں پاکستان کا ریونیو 9.6 ٹریلن روپے سے بڑھ کر18 ٹریلین روپے ہو گیا ہے۔
آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ریونیو گزشتہ 2 سالوں میں دوگنا ہوگیا ہے، ریونیو میں اضافہ ٹیکس وصولیوں، نئے ٹیکس اور مرکزی بینک کی مدد سے ممکن ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ بجٹ میں کون سے ٹیکس ختم ہونے جا رہے ہیں؟
آئی ایم ایف کے مطابق مذکورہ مدت میں پاکستان کا ریونیو 9.
دوسری جانب معاشی ماہرین ملک کے بڑھتے ریونیو کو مصنوعی قرار دیے رہے یں، معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ گزشتہ 2سالوں میں ٹیکس نیٹ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، 2 سالوں میں ٹیکس کی شرح میں بہت اضافہ ہوا اور صرف تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے پر ٹیکسز کو بوجھ پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کی تنظیم نو، ٹیکس پالیسیاں بنانے کے اختیارات ریونیو ڈویژن کو منتقل
معاشی ماہرین کے مطابق اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے لیکن دوسری طرف روپے کی قیمت کم ہورہی ہے، دنیا میں امریکی ڈالرکی قیمت کم ہورہی ہے لیکن پاکستان میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر مہنگا ہورہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی ایم ایف پاکستان ٹیکس ریونیو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پاکستان ٹیکس ریونیو پاکستان کا ریونیو ٹریلین روپے ایم ایف
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔