بجٹ 2025 میں تنخواہ دار طبقے کیلئے خوشخبری، آئی ایم ایف نے رضا مندی ظاہر کردی
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) تنخواہ دار طبقے سے وابستہ کروڑوں پاکستانیوں کیلئے خوشخبری سامنے آگئی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے دی گئی تجاویز پر نرمی برتتے ہوئے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی پر رضامندی ظاہر کر دی۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ نئے انکم ٹیکس اسلاب کے تحت مختلف ماہانہ تنخواہوں پر ٹیکس کی شرح کچھ اس طرح مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ ماہانہ 1 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس کی شرح 2.
3 لاکھ 33 ہزار روپے تک کی ماہانہ تنخواہ رکھنے والوں پر 27.5 فیصد ٹیکس عائد ہو سکتا ہے جبکہ 3 لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد آمدن والے افراد پر انکم ٹیکس کی شرح 32.5 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
یہ مجوزہ شرحیں آئندہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ کا حصہ بننے کا امکان رکھتی ہیں اور اگر ان پر اتفاق ہو گیا تو یہ لاکھوں متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے ملازمین کو متاثر کریں گی۔ اس اقدام سے حکومت کو محصولات بڑھانے میں مدد ملے گی جبکہ کم آمدن والے ملازمین کو کچھ ریلیف ملنے کی امید ہے۔
آئندہ چند دنوں میں بجٹ کی حتمی شکل سامنے آنے کی توقع ہے، جس میں انکم ٹیکس کے نئے اسلاب اور دیگر اقتصادی اصلاحات کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
اسلام آباد سمیت ملک بھر میں بارشوں کا امکان، موسمیات نے الرٹ جاری کردیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ٹیکس کی شرح انکم ٹیکس ہزار روپے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔