خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی تیاری مکمل کر لی ہے، جو 13 جون کو پیش کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت کے مطابق بجٹ کا مجموعی حجم 2,000 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم کے مطابق بجٹ کو پارٹی ویژن اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اصلاحات، ترقیاتی منصوبے، اور صوبے کے محروم طبقے کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ تیار کیا گیا ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت وفاقی بجٹ کے بعد 13 جون کو اپنا بجٹ پیش کر رہی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ قانون کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے بجٹ میں خاص کیا ہے؟

مزمل اسلم نے بجٹ کے بارے میں بتایا کہ دن رات محنت کے بعد بجٹ کو حتمی شکل دی گئی ہے، جس میں غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے اور عوامی منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ کا کل تخمینہ 2,000 ارب روپے ہے، جس میں 1,800 ارب روپے جاری اخراجات کے لیے ہوں گے، جبکہ ترقیاتی بجٹ (ADP) میں 40 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں صحت کارڈ اسکیم کی توسیع کی تجویز دی گئی ہے، جس کے لیے خطیر فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح، تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کرکے تعلیم کے شعبے کے لیے اضافی فنڈز رکھے گئے ہیں، جس سے اسکولوں میں ہر قسم کی ناکافی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ساتھ ہی لڑکیوں کے لیے وظیفے بھی شروع کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اسکولوں سے باہر بچوں کو واپس لانے کے لیے بجٹ میں فنڈز رکھے گی تاکہ اس پر کام کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے وفاقی بجٹ 26-2025: سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی کا کتنا امکان ہے؟

مزمل اسلم کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے لیے خصوصی فنڈنگ اور پشاور کے علاوہ دیگر اضلاع میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری کے لیے فنڈز رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال بھی حکومت کفایت شعاری پر زور دے گی اور حکومتی اخراجات کم سے کم کرنے کی کوشش کرے گی، اور اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سماجی بہبود اور نوجوانوں کے لیے قرض اسکیمیں بھی شامل کی گئی ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق بعض محکموں کے لیے ریفارم ایجنڈے کے تحت اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔

وفاق سے پہلے بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے اس بار صوبائی بجٹ وفاق کے بعد پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو 13 جون کو پیش کیا جائے گا۔ محکمہ خزانہ کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے مطابق خیبر پختونخوا اس بار وفاق سے پہلے بجٹ پیش نہیں کرے گا۔ وفاق 10 جون کو بجٹ پیش کر رہا ہے، جبکہ صوبائی بجٹ 13 جون کو پیش ہو گا۔

افسر نے وضاحت کی کہ وفاقی بجٹ سے پہلے بجٹ پیش کرنے سے سیاسی فائدہ تو ہو سکتا ہے، لیکن عملی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ صوبہ 90 فیصد سے زائد مالی انحصار وفاقی وسائل پر کرتا ہے۔

کیا بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے کوئی خوشخبری ہے؟

خیبر پختونخوا حکومت نے ابھی تک سرکاری ملازمین اور پنشن میں اضافے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، اس لحاظ سے ابھی تک سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے کوئی واضح خوشخبری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں جاری، نان فائلرز کے لیے بُری خبر

ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد تک اضافہ زیر غور ہے، تاہم حتمی فیصلہ وفاق کے اعلان کے بعد کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق صوبہ وہی شرح اپنائے گا جو وفاقی حکومت مقرر کرے گی۔

رواں مالی سال کی کارکردگی، اہداف حاصل کرنے میں ناکامی

خیبر پختونخوا حکومت رواں سال اپنے بجٹ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ صوبائی حکومت نے رواں بجٹ میں آمدنی کا ہدف 1,750 ارب روپے رکھا تھا، جبکہ اب تک صرف 1,150 ارب روپے وصول ہوئے۔ جبکہ اخراجات کا ہدف 1,650 ارب روپے تھا، جس میں سے 1,050 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت ترقیاتی بجٹ کا نصف بھی خرچ نہ کر سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

خیبر پختونخوا بجٹ مزمل اسلم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا بجٹ خیبر پختونخوا حکومت سرکاری ملازمین کیا گیا ہے بتایا کہ انہوں نے ارب روپے حکومت نے کے مطابق بجٹ پیش جائے گا گئے ہیں پیش کر جون کو کے لیے کے بعد

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں منشیات اسمگلنگ کی 2000 فٹ لمبی خفیہ سرنگ سے کروڑوں ڈالر کی کوکین برآمد
  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • خیبر پختونخوا میں آندھی اور بارش؛ دیواریں و چھتیں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق
  • بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کے لاجز کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا