اسلا م آباد (آئی این پی )افغانستان سے متعلق چار ملکی اجلاس 6 اکتوبر کو ماسکو روس میں منعقد ہوگا،  جس میں افغانستان کی صورتحال پر پاکستان، ایران،  روس اور چین چار ملک اجلاس میں شریک ہوں گے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق سفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نمائندہ خصوصی محمد صادق خان کریں گے، چار ملکی اجلاس میں افغانستان کی صورتحال، علاقائی سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی پر خصوصی بات چیت کی جاے گی۔سفارتی ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں شریک ممالک کی جانب سے افغانستان میں کسی بیرونی غیر ملکی اڈے کے قیام کی مخالفت کی تجدید کی جائے گی، چاروں ممالک طالبان راہنماوں کے سفری استثنی کے معاملے پر دوہرے معیار کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان بین الاقوامی برادری سے افغانستان کے لیے ہنگامی انسانی ہمدردی کی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا جاے گا، پاکستان اجلاس میں افغانستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا معاملہ اٹھائے گا۔سفارتی ذرائع نے کہا کہ محمد صادق افغانستان پر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کریں گے، افغانستان سے دہشت گردوں کی بھرتیوں, اسلحہ فراہمی و رسائی اور فنڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جاے گا، پاکستان افغانستان میں کالعدم بی ایل اے، ٹی ٹی پی، جیش العدل کی محفوظ پناہ گاہوں، تربیتی مراکز اورانفراسٹرکچر کے خاتمے کا مطالبہ کرے گا۔سفارتی ذرائع نے کہا کہ چاروں ممالک، باہمی علاقائی منسلکی، انسداد منشیات، انسداد اسمگلنگ،  ترقیاتی منصوبوں، انسانی حقوق بالخصوص خواتین، بچوں کے حقوق کی بحالی اور لڑکیوں کی تعلیم و روزگار پر زور دیں گے، پاکستان، روس، چین اور ایران افغانستان میں جامع اور وسیع البنیاد حکومت کے قیام پر بھی زور دیں گے۔سفارتی ذرائع نے کہا کہ چاروں ممالک افغانستان کے منجمد شدہ بین الاقوامی اثاثہ جات کی بحالی پر بھی بات کریں گے، چین کی نمائندگی خصوصی ایلچی برایے افغانستان یوی ژاو ینگ کریں گے، اجلاس میں ایرانی نمائندہ خصوصی رضا بہرامی ایران کی نمائندگی کریں گے۔سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ روس کی نمائندگی خصوصی ایلچی ضمیر کابلوو کریں گے، افغانستان پر حالیہ چہار ملکی  وزرائے خارجہ  اجلاس 25 ستمبر کو نیویارک میں منعقد ہوا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سفارتی ذرائع نے کہا کہ کی نمائندگی کا مطالبہ اجلاس میں کریں گے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار