میرپورخاص،واپڈا ورکرز کی مطالبات کے حق میں شاندار ریلی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(نمائندہ جسارت) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین ڈویژن و زون میرپورخاص کی جانب سے مرکزی و صوبائی قائدین کی ہدایات پر مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کی کال پر ڈویژن آفس سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی جس میں حیسکو ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے زونل چیئرمین یوسف سومرو، ڈویژنل چیئرمین شاہد کاظمی چیئرمین سکندر علی مہر، اور دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ڈیسکوز کی مجوزہ نجکاری کا خاتمہ اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی پرائیوٹ پبلک پارٹنرشپ کے منصوبوں کو منسوخ کیا جائے ریکوری ٹارگٹ اور مینٹیننس ورک میں بہتری ہو کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جائے مرحوم و شہید ملازمین کے بچوں اور بیواؤں کو تمام مراعات کے ساتھ کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جائے اور لائن اسٹاف کو حادثات سے محفوظ رکھا جائے جونیئر اور سینئر کلرک کو وفاقی حکومت کی طرح دیے گئے اسکیل حیسکو، سیپکو اور دیگر کمپنیوں کے ملازمین کو بھی دیئے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے واپڈا اہلکاروں پر ظلم کی ننگی تلوار لٹکادی گئی ہے پاک فوج کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ شہادتیں واپڈا اہلکاروں کی ہوئی ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ یہ ظلم کیوں ہو رہا ہے ہمارے اندر اتنی طاقت ہے کہ ہم چند گھنٹوں میں نظام در ہم برہم کرسکتے ہیں مگر وطن عزیز کے معاشی حالات دیکھتے ہوئے ہم نے صبر کا پیالہ پی رکھا ہے ہمارے صبر کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ہمارے تمام کے تمام مطالبات جائز ہیں ان پر فی الفور عمل کیا جائے اور حال ہی میں جبری تبادلہ کئے گئے تمام واپڈا ملازمین کو ان کے علاقوں میں واپس بھیجا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا ہمارے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو اسلام آباد کی سڑکوں پر ان شاء اللہ دما دم مست قلندر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جائے
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔