نوجوان پلاسٹک سرجری کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پر صرف ایک مختصر تلاش پر آپ کی فیڈ میں بیسیوں پوسٹس نظر آئیں گی جن میں 20 اور 30 کی دہائی کے افراد مختلف اقسام کی فیس لفٹ جیسا کہ منی، پونی ٹیل، ڈیپ پلین پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین سخت گرمی میں چہرے کی جلد کو صحت مند کیسے رکھ سکتی ہیں؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ وقت گیا جب فیس لفٹ صرف عمر رسیدہ اور امیر افراد کے لیے مخصوص سمجھی جاتی تھی۔ اب نوجوانوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اس بڑی سرجری کی طرف راغب ہو رہی ہے۔
کچھ لوگ خوشی سے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہیں سرجری سے پہلے بعد اور درمیان کا وہ مرحلہ جو اکثر تکلیف دہ اور سوجن سے بھرپور ہوتا ہے۔
یہ اب کوئی خفیہ طریقہ کار نہیں رہا۔، مشہور شخصیات جیسے کہ کرس جینر، کیٹ سیڈلر اور مارک جیکبز نے اپنی فیس لفٹس کے بارے میں کھلے عام بات کی ہے اور کئی دیگر کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ بھی یہ کروا چکے ہیں۔
فیس لفٹ کو ہمیشہ ایک ’آخری قدم‘ اور سب سے بڑی کاسمیٹک سرجری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: چہرے کی جلد صحت مند کیسے؟ لیڈی ڈیانا کی بہو نے سارے راز کھول دیے
لیکن سوال یہ ہے کیا ہم ایک جعلی آن لائن دنیا میں اتنے غیر محفوظ ہو چکے ہیں کہ ہزاروں پاؤنڈ خرچ کر کے چہرے کی جلد کٹوانے لگے ہیں؟
یا ہم نے اتنے غیر سرجیکل علاج (جیسے بوٹوکس اور فلرز) کروا لیے ہیں کہ فیس لفٹ اگلا منطقی اور دیرپا قدم محسوس ہوتا ہے؟
کینیڈا کی ایملی کی کہانی، جواں عمری میں فیس لفٹایملی کینیڈا کے شہر ٹورانٹو سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے 28 سال کی عمر میں ترکی میں سرجری کروائی تاکہ ایک ’اسنیچڈ لک‘ حاصل کیا جا سکے۔ مطلب تیز جبڑا، اونچی گال کی ہڈیاں اور فاکس آنکھیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک ساتھ 6 سرجریز کروائیں جن میں مڈ فیس لفٹ، لپ لفٹ اور رائنوپلاسٹی (ناک کی سرجری) بھی شامل تھیں۔
ان کے مطابق وہ مکمل بے ہوشی میں چلی گئیں، ڈاکٹر نے ان کا پسندیدہ گانا چلایا اور جب وہ جاگیں تو ان کا چہرہ اور ناک بدل چکے تھے۔
ایملی نے بتایا کہ شفایابی کا عمل طویل تھا چہرے کی کچھ جگہوں پر دوبارہ حس واپس آنے میں 6 ماہ لگے۔
مزید پڑھیں: کیا ٹوائلٹ سیٹ سے جنسی و دیگر بیماریاں لگ سکتی ہیں؟
کیا وہ دوبارہ کروائیں گی؟ وہ رک کر سوچتی ہیں کہ ان کی زندگی بدل گئی، وہ اب صحت مند ہیں، کم شراب پیتی ہیں، جلد کا خیال رکھتی ہیں اور پوری نیند لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید آج اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مجھے کیا حاصل ہوگا تو شاید میں سرجری نہ کرواتی۔
لیکن پھر وہ کہتی ہیں کہ میں صرف خود کا بہترین ورژن بننا چاہتی تھی اور مجھے لگتا ہے اب میں وہی ہوں۔
فیس لفٹ کے رجحان میں اضافہبرٹش ایسوسی ایشن آف ایسیتھٹک پلاسٹک سرجنز کے مطابق پچھلے 12 مہینوں میں فیس لفٹس کی تعداد میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ عمر کے لحاظ سے ڈیٹا موجود نہیں لیکن سرجنز کا کہنا ہے کہ عمر کا دائرہ بدل رہا ہے۔
امریکا میں بھی یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر جین زی (45-60 سال) کی عمر کے افراد میں۔
یہ بھی پڑھیے: 3 ہزار سال قبل یورپی باشندوں کی رنگت کیسی ہوتی تھی؟
صدر برٹش ایسوسی ایشن آف ایسیتھٹک پلاسٹک سرجنز نورا نیوجنٹ کے مطابق وزن کم کرنے والی دوائیوں کی مقبولیت بھی ایک وجہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان دوائیوں سے وزن تیزی سے کم ہوتا ہے جس سے جلد ڈھیلی پڑ سکتی ہے اور فیس لفٹ اس میں مدد دیتی ہے۔
لیکن وہ خبردار کرتی ہیں کہ یہ ایک بڑی سرجری ہے جو صرف مستند، رجسٹرڈ پلاسٹک سرجن سے کروانی چاہیے۔
فیس لفٹنگ کیسے کی جاتی ہے؟برسٹل کے سرجن سائمن لی بتاتے ہیں کہ اب فیس اور نیک لفٹ بغیر جنرل اینستھیزیا کے کلینک میں کیا جا سکتا ہے۔
وہ چھوٹے کٹ لگاتے ہیں اور جلد، چکنائی اور پٹھوں کی تہوں تک پہنچ کر چہرے کو دوبارہ ترتیب دیتے ہیں۔
سرجری 4 گھنٹے تک چلتی ہے لیکن کلائنٹ جاگ رہا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا سن اسکرین کا زیادہ استعمال ہڈیاں ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے؟
وہ کہتے ہیں کہ یہ صنعت کے لیے ایک دلچسپ وقت ہے کیوں کہ پہلے صرف جبڑے اور گردن پر توجہ دی جاتی تھی لیکن اب چہرے کے اوپری حصے (جہاں عمر کے آثار جلدی نظر آتے ہیں) پر بھی کام ہوتا ہے۔
خطرات اور لاگتفیس لفٹ کی قیمت 15 سے 45 ہزار پاؤنڈ تک ہو سکتی ہے۔ خصوصاً ترکی اور چند دیگر ممالک میں بعض کلینکس یہ 5 ہزار پاؤنڈ میں بھی کردیتے ہیں۔
لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ فیس لفٹ میں خطرات ہوتے ہیں جیسے کہ خون جمنا، انفیکشن، اعصابی نقصان اور بال جھڑنے کے مسائل۔
34 سالہ جولیا نے چہرے کی ساخت میں عدم توازن دور کرنے کے لیے ترکی میں 6 ہزار پاؤنڈ میں فیس لفٹ کروائی۔ حالانکہ ان کے دوستوں کو کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا تھا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے تحقیق کی، اکیلی گئی، زبان نہیں آتی تھی اور سرجری کے بعد 2 دن ہسپتال میں رہی۔ میں اتنی سوجی ہوئی تھی کہ دیکھ بھی نہیں سکتی تھی۔
ڈاکٹر کرستی گاربیٹ جسمانی تاثر پر تحقیق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم خود کو ویڈیو کالز، سوشل میڈیا اور فلٹرز کے ذریعے مسلسل دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ حقیقت نہیں ہوتی۔
مزید پڑھیے: کیا بار بار اعضا کی پیوندکاری سے انسان امر ہو سکتا ہے؟شی جن پنگ اور پیوٹن کےدرمیان غیر متوقع گفتگو
مشہور شخصیات اگرچہ کھل کر بات کر رہی ہیں لیکن یہ رجحان ان سرجریز کو ’نارمل‘ بنا رہا ہے جو تشویش ناک ہے۔
مشہور شخصیات کی رائےکیرولین اسٹینبری (Real Housewives of Dubai کی میزبان) نے 47 سال کی عمر میں فیس لفٹ کروائی۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا بہترین فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں 60 کی عمر تک انتظار کیوں کروں، میں ابھی خوبصورت دکھنا چاہتی ہوں۔
بیلجیم کے پلاسٹک سرجن الیکسس ورپیل کہتے ہیں کہ اگر کوئی 20 سال کی عمر میں فیس لفٹ کرواتا ہے اور یہ 10-15 سال تک چلتی ہے تو 60 سال کی عمر تک وہ 3 بار یہ سرجری کروائے گا جو چہرے کے لیے بہت بڑا بوجھ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جواں عمری میں فیس لیفٹ چہرے کی لفٹنگ فیس لفٹ فیس لفٹنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فیس لفٹ فیس لفٹنگ میں فیس لفٹ سال کی عمر کے مطابق انہوں نے چہرے کی ہوتا ہے کہ میں کے لیے
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟