Nawaiwaqt:
2026-06-03@02:45:12 GMT

چین اگلے ماہ پاکستان کو 3.7 ارب ڈالر قرض دے گا

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

چین اگلے ماہ پاکستان کو 3.7 ارب ڈالر قرض دے گا

چین نے جون کے آخر تک پاکستان کو 3.7 ارب  ڈالر کے مساوی تجارتی قرضے دینے کی یقین دہانی کرا دی۔ اس میں  وہ 2.4 ارب  ڈالر بھی شامل ہیں جن کی ادائیگی اگلے ماہ آرہی ہے۔ 

چین کے اس اقدام سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو ڈبل ڈیجٹ میں رکھنے میں مدد ملے گی۔ حکومتی ذرائع نے ’’ دی ایکسپریس ٹریبیون ‘‘ کو بتایا کہ ماضی میں  بیجنگ نے غیر چینی کرنسی میں بھی قرضے دیے تھے لیکن اس مرتبہ پاکستان کے اسٹرٹیجک اتحادی چین نے معیشت کا ڈالر پر انحصار کم کرنے کی مہم کے تحت امریکی کرنسی میں قرضے نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع نے کہا کہ چین نے یہ یقین دہانیاں ان حالیہ ملاقاتوں کے دوران دی ہیں  جو مارچ اور جون 2025 کے درمیان قابل ادا ہونے والے قرضوں کی ری فنانسنگ کو محفوظ بنانے کے لیے ہوئی تھیں۔ پاکستانی حکام نے کہا  ہے کہ پاکستان پہلے ہی اس سال مارچ اور اپریل کے درمیان 3قسطوں میں انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک آف چائنا (ICBC) کا 1.

3ارب ڈالر کا قرض واپس کر چکا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی چین سے 3.4ارب ڈالر قرض ری شیڈول کرنے کی درخواست

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کمرشل بینک نے پاکستان سے کچھ وضاحتیں مانگی ہیں اور توقع ہے کہ آئی سی بی سی آئندہ چند دنوں میں یہ رقم چینی کرنسی میں واپس بطور قرض دے دیگا۔

آئی سی بی سی نے دو سال قبل فلوٹنگ شرح سود پر قرض دیا تھا ۔ جس کا مطلب تھا کہ یہ قرض  تقریبا 7.5فیصد شرح سود پر دیا گیا تھا۔ رواں ماہ آئی ایم ایف کی جانب سے 1 بلین ڈالر ملنے کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر تقریباً 11.4 بلین ڈالر ہوگئے ہیں۔ اگلی چینی ری فنانسنگ کے بعد اگلے ماہ کے وسط سے ایک اور کمی دیکھنے سے پہلے یہ ذخائر بڑھ کر 12.7 بلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔  ذرائع نے بتایا ہے کہ   تین چینی کمرشل بینکوں کی طرف سے 2.1 بلین ڈالر  ( 15 بلین RMB  ) سنڈیکیٹ فنانسنگ قرض جون میں میچور ہو رہا ہے۔ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے میچورٹی سے کم از کم تین دن پہلے اس قرض کو ادا کردے گا۔ مالی سال کے اختتام سے پہلے یہ قرض ادا کردیا جائے گا۔  ذرائع نے بتایا کہ چین یہ رقم آر ایم بی کرنسی میں دے گا۔ چائنا ڈیولپمنٹ بینک نے 9 ارب آر ایم بی، بینک آف چائنا نے 3 ارب آر ایم بی اور آئی سی بی سی نے 3 ارب آر ایم بی دیے ہیں۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ قرض کی مدت میں تین سال کی توسیع کی جا رہی ہے، تاہم شرح سود کا مسئلہ ابھی تک غیر فیصلہ کن  ہے۔  چینی حکام نے پاکستان کو دو آپشنز دیے ہیں۔ چین نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ اسے یا تو مقررہ شرح سود پر یا فلوٹنگ ریٹ پر قرض حاصل کرنا چاہیے لیکن یہ شنگھائی انٹر بینک آفر ریٹ (شائبور) پر مبنی نہیں ہوگا۔اس قرض کی بروقت ری فنانسنگ پاکستان کے لیے جون کے آخر تک ذخائر کو ڈبل ڈیجیٹ میں رکھنے کے لیے اہم تھی۔  آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان نے رواں مالی سال میں ذخائر کو 14 ارب ڈالر کے قریب تک بڑھانے کا عہد کیا ہے۔ بینک آف چائنہ کا 300 ملین ڈالر کا قرض بھی اگلے ماہ قابل ادا ہو جائے گا۔پاکستان کو اسے بھی ری فنانس کرانا ہوگا تاکہ ذخائر کو ان کی انتہائی کم از کم سطح پر برقرار رکھا جا سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ قرض بھی چینی کرنسی میں ری فنانس کیا جائے گا۔ یاد رہے  امریکی ڈالر سے قرضوں کو ڈی لنک کرنے کا اقدام پاکستان کے لیے مخصوص نہیں ہے ۔یہ اپنی معیشت کو امریکی کرنسی سے الگ کرنے کی مجموعی چینی پالیسی کا حصہ ہے۔ پاکستان سروائیو کرنے کے لیے بیجنگ پر انحصار کرتا  آ رہا ہے۔ پاکستان کا دوست چین  4 بلین ڈالر کے کیش ڈپازٹس، 5.4 بلین ڈالر مالیت کے تجارتی قرضے اور 4.3 بلین ڈالر کی تجارتی مالیاتی سہولت کو رول اوور کرتا آرہا ہے۔ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2024 تک پاکستان کے کل غیر ملکی تجارتی قرضے 6.2 بلین ڈالر تھے جن میں  5.4 بلین ڈالر چینی تجارتی قرضے بھی شامل تھے۔ رواں مالی سال روپے اور ڈالر کے درمیان برابری بڑی حد تک مستحکم رہی ہے۔  وزارت خزانہ کے ترجمان قمر عباسی نے منگل کو چین کے قابل ادا  بننے والے قرضوں کے ری فنانس ہونے سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ذرائع نے بتایا کہ تجارتی قرضے پاکستان کو پاکستان کے بلین ڈالر ا ر ایم بی ارب ڈالر ذخائر کو اگلے ماہ ڈالر کے کے لیے چین نے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟