شہر میں ناجائز پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے،حاجی یاسین
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)بھائی خان ویلفیئر ایسوسییشن کے بانی جنرل سیکرٹری حاجی محمد یاسین ارائیں و دیگر عہدے داران نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر ناجائز پارکنگ وصول والوں کے خلاف ایکشن لے۔حیدرآباد شہر کے مختلف علاقوں میں جعلی پارکنگ مافیا نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔غیرقانونی طور پر خود ساختہ پارکنگ ایجنٹس عوام سے پارکنگ فیس کے نام پر بھتہ وصول کر رہے ہیں، جبکہ بلدیہ۔ پولیس و دیگر متعلقہ ادارے خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔تجارتی مراکز، بازاروں، اسپتالوں اور شاپنگ ایریاز کے باہر درجنوں افراد بغیر کسی سرکاری اجازت نامے کے پارکنگ کے نام پر شہریوں سے رقم بٹور رہے ہیں۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ اگر کوئی ادائیگی سے انکار کرے تو پارکنگ مافیا غنڈہ گردی پر اتر آتے ہیں۔عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بھائی خان ویلفیئر ضلعی انتظامیہ۔ ٹریفک پولیس و دیگر متعلقہ حکام فوری نوٹس لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔