جامعہ کراچی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے 2 بچے زخمی، ٹانگ اور چہرے پر زخم آئے، انتظامیہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے مطابق آوارہ کتے کے کاٹنے سے بچے کے چہرے اور بچی کے ٹانگ پر گہرے زخم آئے۔ فائل فوٹو
جامعہ کراچی میں آوارہ کتوں نے طلبہ اور اساتذہ کو کاٹنا شروع کردیا ہے، آوارہ کتوں کے کاٹنے سے 2 بچے زخمی ہوگئے، 1 ماہ کے دوران 4 واقعات ہوچکے ہیں۔
جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے مطابق آوارہ کتے کے کاٹنے سے بچے کے چہرے اور بچی کے ٹانگ پر گہرے زخم آئے۔
کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کتوں کے خاتمے اور پکڑنے کے لیے مہم چلائی جائے، کے ایم سی کا عملہ تعاون نہیں کر رہا۔
جامعہ کراچی کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر حسن اوج نے بتایا کہ محمد عمران کی ایک کمسن بچی حورین اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ چیک اپ کے لیے کلینک آئی، اسے صبح 10:15 پر کراچی یونیورسٹی کلینک پارکنگ کے احاطے میں آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔
اس واقعے کے 15 منٹ کے اندر ایک اور 5 سال کی عمر کے بچے کو اتنی بے دردی سے کاٹ لیا، اس کا آدھا چہرہ کتے نے چبا لیا تھا۔
ڈاکٹر حسن اوج کے مطابق اس پر فوری توجہ اور فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی کے کاٹنے سے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔