مزیدار کھانے بنانے کا مقابلہ، کراچی کے نوجوان شیفس کی ٹیم نے میدان مار لیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
کراچی کے نوجوان شفیز نے میدان مارلیا، ٹیم ضیفان نامی گروپ نے کونٹینٹل اور دیسی امتزاج سے تیار کھانوں کی ڈش سے پہلی پوزیشن نام کرلی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹورازم اینڈ ہوٹل منجمنٹ کےتحت ایکسپوسینٹرکراچی میں دوسرے سالانہ کھانوں کے ایونٹ کے دوران 300 سے زائد نوجوان شیفس کے درمیان پاکستانی، کانٹی نینٹل، چینی ڈشزکے مقابلے ہوئے۔
اس دوران شہر قائد کے مختلف ہوٹلز وریسٹورنٹس سے تعلق رکھنے والے نوجوان شیفزنے ذائقہ دار کھانے تیار کر کے انتہائی پیشہ ورانہ اندازمیں سجا کرجیوری میں شامل ججزکےسامنے پیش کیا۔
ٹیم ضیفان ہوٹل کے گروپ میں شامل محمود سعید سمیت دیگردونوجوانوں نے انفرادی طورپر میڈلز اپنے نام کرلیے، 3 رکنی ٹیم کی جانب سے ڈریگن فروٹ، سیمبل اولیک پراون جبکہ مین کورس کے دوران گرل فش ودھ کولی۔
فلاور پوری اینڈ ہرب ساس تیارکی گئی، محکمہ وزارت ثقافت وسیاحت کی سرپرستی دوروزہ کھانے پکانے کے ایونٹ کے انعقاد مقصد ہوٹلنگ اورکلنری آرٹ میں دلچسپی رکھنے والےافراد بالخصوص نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کےاظہار کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہواور وہ اس شعبےمیں اپنا نام بناسکیں۔
پاکستان میں ہوٹل اورریسٹورنٹ کے شعبے نے گزشتہ چند سال میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے یہی وجہ ہے کہ اس شعبے میں ہنرمند افرادی قوت اورماہر شیفس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب نوجوانوں کی بڑی تعداد اس شعبےکے طرف راغب ہوکر اندرون اور بیرون ملک روزگار حاصل کررہی ہے، اب شیف کا پیشہ معاشرے میں پہلےسے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اوران وجوہات کی بناء پرملک میں پیشہ ورتربیت فراہم کرنے والے اداروں اورکلنری آرٹ سیکھنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سےاضافہ ہورہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔