وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا استعفیٰ باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس کو موصول
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا استعفیٰ باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس کو موصول ہوگیا۔
گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا کے ترجمان کے مطابق آج دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اپنے عہدے سے دستنویس استعفیٰ باقاعدہ طور پر گورنر ہاؤس کو موصول ہوا اور اس کی وصولی کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔
گورنر خیبر پختون خوا نے کہا کہ آئینِ پاکستان اور متعلقہ قوانین کے مطابق استعفے کی جانچ پڑتال اور قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد، وزیراعلیٰ کا استعفیٰ آئینی طریقہ کار کے تحت عمل میں لایا جائے گا۔
گورنر کے پی نے مزید کہا کہ گورنر ہاؤس تمام آئینی و قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملے کو شفاف اور منظم انداز میں آگے بڑھائے گا۔
Today at 2:30 pm, the handwritten resignation advice of the CM Khyber Pakhtunkhwa was duly received and acknowledged by Governor House.
After thorough scrutiny and legal formalities as per the Constitution & relevant laws, subject resignation will be processed in due course of… pic.twitter.com/wD9phdWUIQ — Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 11, 2025
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے استعفے کے بعد گورنر ہاؤس میں اس وقت ابتدائی قانونی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں، تاہم گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے معاملے پر حتمی آئینی رائے پیر کے روز حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہفتہ وار تعطیل (اتوار) کے باعث گورنر ہاؤس کا قانونی عملہ کل دستیاب نہیں ہوگا، لہٰذا بروز پیر معمولات زندگی کے آغاز کے ساتھ ہی گورنر اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کریں گے۔ اس مشاورت میں وزیراعلیٰ کے استعفے سے متعلق آئینی تقاضوں، ممکنہ پیچیدگیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر فیصل کریم کنڈی آئینی اور قانونی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی فیصلے سے قبل مکمل قانونی رائے اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ خود لیں گے۔
وزیراعلیٰ نے اس سے قبل تحریری ٹائپ شدہ استعفی 8 اکتوبر کو ارسال کیاتھا، ذرائع نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا پہلا ارسال کردہ استعفیٰ پراسرارطور پر غائب ہوچکاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا گورنر ہاؤس کے مطابق
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔