Islam Times:
2026-07-24@05:47:07 GMT

کوئی کہیں بھی رہے، اسلام تو اسلام ہی رہے گا، جسٹس مسیح

اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT

کوئی کہیں بھی رہے، اسلام تو اسلام ہی رہے گا، جسٹس مسیح

سماعت کے تیسرے دن سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کی جانب سے کہا کہ نئے قانون کے تحت درج فہرست قبائل کے زمرے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی زمینوں کو تحفظ فراہم کرنا درست ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر درخواستوں پر آج سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس آگسٹین جارج مسیح نے بہت اہم تبصرہ کیا۔ جسٹس مسیح نے کہا کہ کوئی جہاں بھی رہے اسلام اسلام ہی رہے گا۔ جج نے یہ بات حکومت کی اس دلیل کے جواب میں کہی ہے کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والے درج فہرست قبائل کی مسلمانوں اس طرح اسلام کی پیروی نہیں کرتی ہے جس طرح ملک کے باقی حصوں میں کی جاتی ہے۔

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ وقف قانون کیس کی مسلسل تین دنوں سے سماعت کر رہی ہے۔ سماعت کے تیسرے دن سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کی جانب سے کہا کہ نئے قانون کے تحت درج فہرست قبائل کے زمرے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی زمینوں کو تحفظ فراہم کرنا درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والے درج فہرست ذاتوں کے لوگوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے، جو انہیں جائز وجوہات کی بنا پر حاصل ہے۔

ایس جی تشار مہتا نے کہا کہ وقف کا مطلب خدا کے لئے مستقل وقف ہے۔ فرض کریں کہ میں نے اپنی زمین بیچ دی اور معلوم ہوا کہ درج فہرست قبیلے کے کسی فرد کو دھوکہ دیا گیا ہے تو اس صورت میں زمین واپس کی جا سکتی ہے لیکن وقف اٹل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کا کہنا ہے کہ ان قبائلی علاقوں میں رہنے والے مسلمان ملک کے باقی حصوں میں رہنے والے مسلمانوں کی طرح اسلام کی پیروی نہیں کرتے، ان کی اپنی ثقافتی شناخت ہے۔

ایس جی تشار مہتا کی اس دلیل پر جسٹس اے جی مسیح نے کہا کہ اسلام اسلام ہی رہے گا، انسان جہاں بھی رہتا ہے مذہب ایک ہی ہے۔ مختلف حصوں میں رہنے والے لوگوں کے ثقافتی طریقوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ ایس جی مہتا نے کہا کہ میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا یہ قانون پر روک لگانے کی بنیاد ہوسکتی ہے۔ سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قبائلی تنظیموں کا موقف ہے کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور وقف کے نام پر ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے، کیا یہ مکمل طور پر غیر آئینی نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں رہنے والے تشار مہتا درج فہرست نے کہا کہ مہتا نے

پڑھیں:

اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق

— فائل فوٹو

اسکردو میں کچورا جھیل میں سیاح گر کر جاں بحق ہو گیا۔

پولیس کے مطابق مرنے والے شخص کی لاش جھیل سے نکال لی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سیلفی بناتے ہوئے جھیل میں گرنے والے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان جھیل میں جا گرا۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات