خاتون کا شوہر پر غیرفطری سیکس اور وحشیانہ جنسی تشدد کا الزام، ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
ملتان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی 2025ء ) صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں خاتون نے شوہر پر غیرفطری سیکس اور وحشیانہ جنسی تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کروادیا جس پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا، پولیس نے ریپ کی دفعہ (زنا بالجبر) کے تحت مقدمے کی ایف آئی آر درج کرلی۔ بی بی سی کے مطابق ملزم پر اُن کی اہلیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شوہر نے دورانِ سیکس ناصرف مبینہ طور پر غیرفطری جنسی تعلق قائم کیا بلکہ منع کرنے پر شدید نوعیت کا جنسی تشدد بھی کیا جس سے وہ زخمی ہو گئی، جس پر پولیس نے خاتون کا طبی معائنہ کروایا تو ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں خاتون کی چھاتی و جنسی اعضاء پر زخموں اور سوجن کے نشانات پائے گئے۔
19 سالہ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ دوران سیکس جنسی نوعیت کا تشدد تین سال سے ہو رہا تھا، جب اس حوالے سے اپنی ساس سے شکایت کی تو انہوں نے ڈانٹ کر چپ کروا دیا اور کہا کہ ’میاں بیوی کے رشتے میں ایسا ہی ہوتا ہے‘، 17 مئی کی رات تقریباً 11 بجے شوہر گھر آئے اور انتہائی وحشیانہ طریقے سے سیکس کا آغاز کیا اس دوران غیرفطری جنسی تعلق بھی قائم کیا، ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا بلکہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔(جاری ہے)
خاتون نے ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا کہ جب شوہر کو منع کیا تو اس نے تشدد کا آغاز کردیا، اُس رات شوہر نے چھاتی اور پورے جسم پر دانتوں سے کاٹا اور اس دوران ہاتھوں کی مدد سے یوٹیرس (رحم) کو چیرتا اور زخمی کرتا رہا، اس وحشیانہ تشدد پر چیخنا چلانا شروع کردیا جس پر چند افراد اکھٹے ہوئے جنہوں نے پولیس ہیلپ لائن پر کال کی، جس کے بعد میں نے پولیس سے درخواست کی کہ طبی معائنہ کروایا جائے اور ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ 19 مئی کی صبح پولیس کی درخواست پر ہوا تو خاتون کے جسم پر کئی نئے اور پرانے زخموں کے نشانات پائے گئے، خاتون کی چھاتی کے دائیں اور بائیں جانب دانتوں سے کاٹنے کے نشانات کے علاوہ ان کی اندام نہانی کے اندرونی حصے پر سوجن موجود تھی، خاتون کی وجائنا کے دائیں اور بائیں حصے پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے، ان کے جسم پر پرانے زخموں کے بھی چند نشانات موجود تھے۔ 19 سالہ متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ہماری تین سال قبل شادی ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اسی قسم کی صورتحال کا سامنا تھا، ابتداء میں اپنی ساس کو اس سے متعلق شکایت کی تاہم انہوں نے ڈانٹ کر کہا کہ 'میاں بیوی کے رشتے میں ایسا ہی ہوتا ہے، یہ بات کسی کو نہیں بتانی'، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ تشدد بڑھتا گیا اور آخری مرتبہ یہ اتنا شدید تھا کہ میں بے ہوش ہوگئی، اس پر میں ڈر گئی اور سوچا کہ شاید یہ شوہر کا حق ہے، وہ مجھ پر تشدد صرف سیکس کے دوران ہی کرتا تھا اور ایسے لگتا تھا جیسے وہ وحشی ہو گیا ہے، میں روتی رہتی مگر وہ ترس نہیں کھاتا تھا، میں منع کرنے کی کوشش کرتی تو میرا شوہر کہتا کہ 'اپنی امی کے گھر چلی جاؤ، میں دوسری شادی کر لوں گا'۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے نشانات خاتون کا
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب