Express News:
2026-07-24@09:04:44 GMT

ہوئے ہم جن کے لیے برباد

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

پاک بھارت حالیہ جنگ میں اسرائیل تو کھل کر بھارت کی حمایت کر رہا تھا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ افغانستان بھی بھارت کی خفیہ حمایت کر رہا تھا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ طالبان بھارت سے دوستی کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک سرکردہ رہنما ملا ابراہیم صدرکو بھارت کے دورے پر بھیج دیا ہے جو بھارتی حکومت سے طالبان کے تعلقات کو استوار کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں مگر ان کے دورے اور بھارتی حکمرانوں سے ان کی گفتگو کو طالبان حکومت صیغہ راز میں رکھ رہی ہے۔ 

تاہم آج کل کوئی خبر مخفی نہیں رہ سکتی، وہ کسی نہ کسی طرح اجاگر ہو جاتی ہے۔ اس رہنما کے بھارت روانگی سے قبل بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے طالبان کے وزیر خارجہ ملا متقی سے دبئی میں ملاقات کی تھی۔ اس وقت بھارت کا طالبان سے دوستی کرنے کے لیے پہل کرنا بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے طالبان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

لگتا ہے طالبان بھارت کی پاکستان کے خلاف درخواست کو شرف قبولیت عطا کر دیں گے کیونکہ وہ پاکستان سے بہت ناراض لگتے ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر افغانستان کا مستقبل کیا ہے؟ کیا وہ اسی طرح اپنی زمین کو غیروں کے حوالے کرکے اپنے سر بدنامی لیتے رہیں گے اور اپنے ملک کو داؤ پر لگاتے رہیں گے۔

دنیا ترقی کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے مگر افغانستان اب بھی اٹھارہویں صدی والا ملک بنا ہوا ہے۔ کیا طالبان پاکستان کے احسانات کو اتنی جلدی بھول گئے کہ صرف پاکستان ہی ان کو افغانستان میں اقتدار دلانے کے لیے اکیلا ان کے ساتھ کھڑا تھا۔ طالبان کو خود پتا ہے کہ پاکستان کو ان کی حمایت کرنے کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

اس جنگ میں جوکہ اس کی اپنی نہیں تھی، ناقابل تلافی مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پاکستان چاہتا تو اس تمام آلام سے بچ بھی سکتا تھا وہ طالبان کی حمایت کنارہ کشی بھی اختیار کرسکتا تھا کیونکہ امریکا ہی نہیں تمام اتحادی ممالک کا اس پر دباؤ تھا مگر پاکستان نے کسی مرحلے پر بھی طالبان سے بے زاری یا دوری اختیار نہیں کی۔

حتیٰ کہ آخر وقت تک طالبان کا ساتھ دیا اور انھیں اقتدارکی منزل تک پہنچا کر دم لیا۔ کیا اب اس احسان کا صلہ یہ دیا جا رہا ہے کہ وہی بھارت جو نہ صرف ہمارا بلکہ ان کا بھی دشمن تھا وہ اسی کی گود میں بیٹھنے کے لیے بے چین و بے قرار ہو رہے ہیں۔ یہ کیسی وفاداری اور دوستی ہے کہ پاکستان نے طالبان کو منزل تک پہنچانے کے بعد بھی قربانیاں دیں، امریکا سخت ناراض ہو گیا۔

پاکستان کی مالی امداد بند کر دی گئی اور پاکستان کو اپنے دوستوں کی فہرست سے نکال دیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے طالبان کے لیے حالات سازگار بنانے کے لیے اپنے دوست ممالک جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین شامل ہیں سے انھیں امداد دلوائی جس سے افغانستان میں طالبان حکومت کی مالی پریشانیاں دور ہوئیں اور ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا آغاز ہوا۔

جب کہ ابتدائی دنوں میں بھارت مسلسل طالبان حکومت کو ناکام بنانے کے لیے اپنی کوششیں کرتا رہا۔ پاکستان نے بھارت کی افغان مخالف جارحیت کا بھی مقابلہ کیا اور طالبان کو امن کا ماحول بہم پہنچانے کی حتیٰ المقدور کوششیں کیں۔ اب جب کہ طالبان پاکستان مخالفت پر آمادہ ہیں اور بھارت سے پینگیں بڑھا رہے ہیں تب بھی پاکستانی حکومت ان کی مخالفت پر آمادہ نہیں ہے نہ ہی او آئی سی ممالک سے طالبان کی شکایت کر رہی ہے بلکہ ان کی بھلائی چاہتی ہے۔

طالبان خود بھی اپنے گریبان میں جھانکیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے اب تک ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے آخر کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اب بھی نئے زمانے کے حالات میں خود کو نہیں ڈھال رہے ہیں۔

 اسلام خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا مگر خواتین کی تعلیم پر وہاں پابندی کیوں؟ اکثر مسلم ممالک بھیان کے دقیانوسی رویے کی وجہ سے اب تک ان سے دور ہیں ۔ اسے بدقسمتی ہی سمجھیے کہ ماضی کی تمام افغان حکومتیں پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتی رہیں پھر بھارت افغانستان کا دوست اور پاکستان دشمن گردانا جاتا تھا۔

افغانستان نے تو پاکستان کے قیام کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اس کے باوجود پاکستان نے افغانستان کو اپنا دشمن نہیں سمجھا۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا وہاں سے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں پناہ گزیں ہوئے جن کا حکومت پاکستان نے پورا پورا خیال رکھا۔ پاکستان میں اب بھی لاکھوں مہاجرین آباد ہیں البتہ اب طالبان حکومت کے قیام کے بعد حکومت پاکستان نے کئی لاکھ مہاجرین کو ان کے وطن واپس روانہ کر دیا ہے تاکہ وہ وہاں اپنے ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔

 اگر طالبان اس بات پر ناراض ہیں کہ افغان مہاجرین کو کیوں واپس بھیجا جا رہا ہے تو یہ ان کی حکومت کی پائیداری اور استحکام کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس سے دنیا میں ان کا امیج بڑھے گا کہ وہ افغانستان میں پیر جما چکے ہیں اور اب بہتر پوزیشن میں آگئے ہیں اور اسی لیے دوسرے ممالک میں اپنے پناہ گزین افغانوں کو ملک میں واپس آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

بہرحال پاکستان کبھی بھی افغان بھائیوں کے خلاف نہیں تھا، البتہ افغانستان کی ہر حکومت نے بھارت کا ساتھ ہی نہیں دیا بلکہ اسے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کی کھلی چھوٹ دی تاہم طالبان سے یہ امید نہیں تھی۔ اب اگر طالبان کا یہی موقف ہے تو پھر پاکستان کیسے دہشت گردی سے پاک ہوگا۔

ٹی ٹی پی کی دہشت گردی نے دراصل بلوچستان میں موجود بھارتی ایجنٹوں کی ہمت بڑھائی ہے اور اب وہ ٹرینوں کے مسافروں تک کو یرغمال بنانے لگے ہیں اور اسکول کی بسوں میں بچوں کا قتل عام کرنے لگے ہیں۔ پاکستان کی بار بار درخواست پر بھی طالبان ٹی ٹی پی کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اب تو انھوں نے بھارت سے ہاتھ ملا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی احسان کو نہیں مانتے اور پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے خود ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس وقت چین وہ واحد ملک ہے جو افغانستان کے بگڑے ہوئے انفرا اسٹرکچر کو سدھارنے میں لگا ہوا ہے۔ چین نے طالبان وزیر خارجہ کو پیکنگ طلب کرکے بات کی ہے شاید چین کی بات طالبان کی سمجھ میں آجائے اور وہ اپنا قبلہ درست کرلیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طالبان حکومت پاکستان کو پاکستان نے نے طالبان طالبان کو بھارت کی ہے کہ وہ ہیں اور رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا