Express News:
2026-06-03@07:39:09 GMT

ہوئے ہم جن کے لیے برباد

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

پاک بھارت حالیہ جنگ میں اسرائیل تو کھل کر بھارت کی حمایت کر رہا تھا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ افغانستان بھی بھارت کی خفیہ حمایت کر رہا تھا۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ طالبان بھارت سے دوستی کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک سرکردہ رہنما ملا ابراہیم صدرکو بھارت کے دورے پر بھیج دیا ہے جو بھارتی حکومت سے طالبان کے تعلقات کو استوار کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں مگر ان کے دورے اور بھارتی حکمرانوں سے ان کی گفتگو کو طالبان حکومت صیغہ راز میں رکھ رہی ہے۔ 

تاہم آج کل کوئی خبر مخفی نہیں رہ سکتی، وہ کسی نہ کسی طرح اجاگر ہو جاتی ہے۔ اس رہنما کے بھارت روانگی سے قبل بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے طالبان کے وزیر خارجہ ملا متقی سے دبئی میں ملاقات کی تھی۔ اس وقت بھارت کا طالبان سے دوستی کرنے کے لیے پہل کرنا بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے طالبان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

لگتا ہے طالبان بھارت کی پاکستان کے خلاف درخواست کو شرف قبولیت عطا کر دیں گے کیونکہ وہ پاکستان سے بہت ناراض لگتے ہیں مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر افغانستان کا مستقبل کیا ہے؟ کیا وہ اسی طرح اپنی زمین کو غیروں کے حوالے کرکے اپنے سر بدنامی لیتے رہیں گے اور اپنے ملک کو داؤ پر لگاتے رہیں گے۔

دنیا ترقی کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے مگر افغانستان اب بھی اٹھارہویں صدی والا ملک بنا ہوا ہے۔ کیا طالبان پاکستان کے احسانات کو اتنی جلدی بھول گئے کہ صرف پاکستان ہی ان کو افغانستان میں اقتدار دلانے کے لیے اکیلا ان کے ساتھ کھڑا تھا۔ طالبان کو خود پتا ہے کہ پاکستان کو ان کی حمایت کرنے کا کیا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔

اس جنگ میں جوکہ اس کی اپنی نہیں تھی، ناقابل تلافی مالی اور جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پاکستان چاہتا تو اس تمام آلام سے بچ بھی سکتا تھا وہ طالبان کی حمایت کنارہ کشی بھی اختیار کرسکتا تھا کیونکہ امریکا ہی نہیں تمام اتحادی ممالک کا اس پر دباؤ تھا مگر پاکستان نے کسی مرحلے پر بھی طالبان سے بے زاری یا دوری اختیار نہیں کی۔

حتیٰ کہ آخر وقت تک طالبان کا ساتھ دیا اور انھیں اقتدارکی منزل تک پہنچا کر دم لیا۔ کیا اب اس احسان کا صلہ یہ دیا جا رہا ہے کہ وہی بھارت جو نہ صرف ہمارا بلکہ ان کا بھی دشمن تھا وہ اسی کی گود میں بیٹھنے کے لیے بے چین و بے قرار ہو رہے ہیں۔ یہ کیسی وفاداری اور دوستی ہے کہ پاکستان نے طالبان کو منزل تک پہنچانے کے بعد بھی قربانیاں دیں، امریکا سخت ناراض ہو گیا۔

پاکستان کی مالی امداد بند کر دی گئی اور پاکستان کو اپنے دوستوں کی فہرست سے نکال دیا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے طالبان کے لیے حالات سازگار بنانے کے لیے اپنے دوست ممالک جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین شامل ہیں سے انھیں امداد دلوائی جس سے افغانستان میں طالبان حکومت کی مالی پریشانیاں دور ہوئیں اور ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا آغاز ہوا۔

جب کہ ابتدائی دنوں میں بھارت مسلسل طالبان حکومت کو ناکام بنانے کے لیے اپنی کوششیں کرتا رہا۔ پاکستان نے بھارت کی افغان مخالف جارحیت کا بھی مقابلہ کیا اور طالبان کو امن کا ماحول بہم پہنچانے کی حتیٰ المقدور کوششیں کیں۔ اب جب کہ طالبان پاکستان مخالفت پر آمادہ ہیں اور بھارت سے پینگیں بڑھا رہے ہیں تب بھی پاکستانی حکومت ان کی مخالفت پر آمادہ نہیں ہے نہ ہی او آئی سی ممالک سے طالبان کی شکایت کر رہی ہے بلکہ ان کی بھلائی چاہتی ہے۔

طالبان خود بھی اپنے گریبان میں جھانکیں کہ دنیا کے کسی بھی ملک نے اب تک ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے آخر کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اب بھی نئے زمانے کے حالات میں خود کو نہیں ڈھال رہے ہیں۔

 اسلام خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکتا مگر خواتین کی تعلیم پر وہاں پابندی کیوں؟ اکثر مسلم ممالک بھیان کے دقیانوسی رویے کی وجہ سے اب تک ان سے دور ہیں ۔ اسے بدقسمتی ہی سمجھیے کہ ماضی کی تمام افغان حکومتیں پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتی رہیں پھر بھارت افغانستان کا دوست اور پاکستان دشمن گردانا جاتا تھا۔

افغانستان نے تو پاکستان کے قیام کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا اس کے باوجود پاکستان نے افغانستان کو اپنا دشمن نہیں سمجھا۔ جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا وہاں سے لاکھوں مہاجرین پاکستان میں پناہ گزیں ہوئے جن کا حکومت پاکستان نے پورا پورا خیال رکھا۔ پاکستان میں اب بھی لاکھوں مہاجرین آباد ہیں البتہ اب طالبان حکومت کے قیام کے بعد حکومت پاکستان نے کئی لاکھ مہاجرین کو ان کے وطن واپس روانہ کر دیا ہے تاکہ وہ وہاں اپنے ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔

 اگر طالبان اس بات پر ناراض ہیں کہ افغان مہاجرین کو کیوں واپس بھیجا جا رہا ہے تو یہ ان کی حکومت کی پائیداری اور استحکام کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس سے دنیا میں ان کا امیج بڑھے گا کہ وہ افغانستان میں پیر جما چکے ہیں اور اب بہتر پوزیشن میں آگئے ہیں اور اسی لیے دوسرے ممالک میں اپنے پناہ گزین افغانوں کو ملک میں واپس آنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

بہرحال پاکستان کبھی بھی افغان بھائیوں کے خلاف نہیں تھا، البتہ افغانستان کی ہر حکومت نے بھارت کا ساتھ ہی نہیں دیا بلکہ اسے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کی کھلی چھوٹ دی تاہم طالبان سے یہ امید نہیں تھی۔ اب اگر طالبان کا یہی موقف ہے تو پھر پاکستان کیسے دہشت گردی سے پاک ہوگا۔

ٹی ٹی پی کی دہشت گردی نے دراصل بلوچستان میں موجود بھارتی ایجنٹوں کی ہمت بڑھائی ہے اور اب وہ ٹرینوں کے مسافروں تک کو یرغمال بنانے لگے ہیں اور اسکول کی بسوں میں بچوں کا قتل عام کرنے لگے ہیں۔ پاکستان کی بار بار درخواست پر بھی طالبان ٹی ٹی پی کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اب تو انھوں نے بھارت سے ہاتھ ملا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی احسان کو نہیں مانتے اور پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے خود ہی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس وقت چین وہ واحد ملک ہے جو افغانستان کے بگڑے ہوئے انفرا اسٹرکچر کو سدھارنے میں لگا ہوا ہے۔ چین نے طالبان وزیر خارجہ کو پیکنگ طلب کرکے بات کی ہے شاید چین کی بات طالبان کی سمجھ میں آجائے اور وہ اپنا قبلہ درست کرلیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: طالبان حکومت پاکستان کو پاکستان نے نے طالبان طالبان کو بھارت کی ہے کہ وہ ہیں اور رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی