اشتعال انگیزی کے مقدمے میں ماہ رنگ بلوچ سمیت فریقین سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ کی اشتعال انگیزی کے مقدمے میں بریت کے فیصلے کے خلاف پراسیکیوشن کی اپیل پر سماعت ہوئی، عدالت نے ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن عدالت نے بریت کی درخواست پر فیصلہ دیتے وقت مقدمے کے اہم حقائق کو نظر انداز کیا۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کے دوران شواہد پیش کیے جانے ہوتے ہیںلیکن سیشن عدالت نے فردِ جرم عاید ہونے سے پہلے ہی بریت کا فیصلہ دے دیا، جو نامناسب ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ منتظر مہدی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ملزمہ کے خلاف واضح شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر مقدمہ چلایا جانا ضروری تھا تاہم ٹرائل سے قبل بری کرنے کا فیصلہ قانونی تقاضوں کے برعکس ہے۔ سیشن عدالت نے ماہ رنگ بلوچ کی بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ خارج کردیا تھا، ملزمہ کے خلاف قائد آباد تھانے میں اشتعال انگیزی کا مقدمہ درج ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے اپیل پر آئندہ سماعت کیلئے نوٹسز جاری کردیے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ماہ رنگ بلوچ عدالت نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔