ڈی سی کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ازخود واپسی میں تعاون نہیں کرتے، انکے خلاف حکومت کیجانب سے قانونی کارروائی اور آپریشن کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت افغان مہاجرین کے منظم انخلا کے حوالے سے ایک اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی آپریشن محمد بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، تمام سب ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز، ایس پیز اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کیں۔ اجلاس کے دوران اب تک جاری آپریشنز اور انخلا کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ آئندہ دنوں کے لیے مربوط ایکشن پلان اور لائحہ عمل بھی مرتب کیا گیا تاکہ عمل کو مؤثر، منظم اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔
 
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تمام اے سیز اور ایس پیز کو نئے ہدایات اور ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے افغان مہاجرین کے انخلا کے عمل میں باہمی تعاون اور کوآرڈینیشن کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ افغان مہاجرین کے باعزت انخلا کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی، تاہم جو افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ازخود واپسی میں تعاون نہیں کرتے، ان کے خلاف حکومت کی جانب سے قانونی کارروائی اور آپریشن کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ افغان مہاجرین کا انخلا انسانی ہمدردی اور قانون کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔ تمام سب ڈویژنز کے انتظامی افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس جمع کرائیں اور عمل کی رفتار کو تیز بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افغان مہاجرین ڈپٹی کمشنر انخلا کے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار