غیر قانونی مقیم مہاجرین کیخلاف آپریشن کیا جائیگا، ڈی سی کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ڈی سی کوئٹہ مہراللہ بادینی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ازخود واپسی میں تعاون نہیں کرتے، انکے خلاف حکومت کیجانب سے قانونی کارروائی اور آپریشن کیا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیر صدارت افغان مہاجرین کے منظم انخلا کے حوالے سے ایک اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس ایس پی آپریشن محمد بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) محمد انور کاکڑ، تمام سب ڈویژنز کے اسسٹنٹ کمشنرز، ایس پیز اور متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کیں۔ اجلاس کے دوران اب تک جاری آپریشنز اور انخلا کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ آئندہ دنوں کے لیے مربوط ایکشن پلان اور لائحہ عمل بھی مرتب کیا گیا تاکہ عمل کو مؤثر، منظم اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے تمام اے سیز اور ایس پیز کو نئے ہدایات اور ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے افغان مہاجرین کے انخلا کے عمل میں باہمی تعاون اور کوآرڈینیشن کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ افغان مہاجرین کے باعزت انخلا کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی، تاہم جو افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ازخود واپسی میں تعاون نہیں کرتے، ان کے خلاف حکومت کی جانب سے قانونی کارروائی اور آپریشن کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ افغان مہاجرین کا انخلا انسانی ہمدردی اور قانون کے مطابق یقینی بنایا جائے گا۔ تمام سب ڈویژنز کے انتظامی افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس سلسلے میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس جمع کرائیں اور عمل کی رفتار کو تیز بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین ڈپٹی کمشنر انخلا کے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔