لبنان: یونیفیل کی اپنی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 اکتوبر 2025ء) لبنان میں اسرائیل کی سرحد کے متوازی تعینات اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) نے اسرائیلی فوج سے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کے اہلکاروں پر یا ان کے قریب تمام حملے فوری طور پر بند کرے۔
یونیفیل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز دوپہر سے کچھ دیر قبل ایک اسرائیلی ڈرون نے لبنانی قصبے کفرکلا میں یونیفیل کی پوسٹ کے قریب ایک بم گرایا۔
اس واقعے میں فورس کا ایک اہلکار معمولی زخمی ہوا جسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس بم دھماکے سے قبل مشن کے اہلکاروں نے دو ڈرون طیاروں کو علاقے میں پرواز کرتے دیکھا تھا۔
یونیفیل کے مطابق، رواں ماہ کے دوران یہ اس کی تنصیبات کے قریب دوسرا حملہ ہے جس میں اس کے اہلکار اسرائیلی فوج کی جانب سے برسائے گئے بموں کا نشانہ بنے ہیں۔
(جاری ہے)
فورس نے اس واقعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ امن مشن کے اہلکاروں کی سلامتی سے تشویشناک لاپروائی ہے جو کونسل کی تفویض کردہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور علاقے میں استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں جس کا عزم اسرائیل اور لبنان دونوں نے کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔