امریکا ایک نئی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے، لیکن ہم نہیں دیں گے: صدر وینزویلا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہے کہ امریکا ایک نئی جنگ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن وینزویلا اس کی اجازت نہیں دے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مادورو نے یہ بیان امریکا کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز کو کیریبین بھیجنے کے بعد دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکا کشیدگی پیدا کرنا چاہتا ہے، وینزویلا کسی بھی جنگ کو ہونے نہیں دے گا۔
دوسری جانب کولمبین صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی پابندیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے منشیات کی غیر قانونی سرگرمیوں کے الزام میں ان پر پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن وہ کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور نہ ہی گھٹنے ٹیکیں گے۔
واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے صدر پیٹرو کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی مالی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔