اداکارہ امبر خان کا انکشاف: شوہر کا تشدد برداشت کیا، لاتیں اور تھپڑ کھائے
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ امبر خان نے نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی شادی شدہ زندگی کے تلخ حقائق پر کھل کر بات کی انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ازدواجی زندگی میں شوہر کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کا سامنا رہا، حتیٰ کہ لاتیں اور تھپڑ بھی برداشت کیے امبر خان کا کہنا تھا کہ ان کے ساس سسر اور نند کے ساتھ تعلقات خوشگوار رہے یہاں تک کہ نند سے دوستی بھی تھی مگر شوہر کے ساتھ تعلقات خراب تھے انہوں نے بتایا کہ شادی 20 سال کی عمر میں ہوئی اگرچہ وہ خود کو اس وقت بھی سمجھدار سمجھتی تھیں لیکن شوہر کا رویہ تکلیف دہ تھا اداکارہ نے کہا کہ والدین نے نرمی سے پالا تھا لیکن شادی کے بعد کے تجربات نے ان کی زندگی کو بدل دیا شوہر کے تشدد سے تنگ آکر والدین نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ خاموش نہ رہیں، جس کے بعد انہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور مزید برداشت نہ کرنے کا فیصلہ کیا یاد رہے کہ امبر خان اس سے قبل بھی اپنی طلاق اور شادی کے معاملات پر بات کر چکی ہیں انہوں نے بتایا تھا کہ طلاق کے اگلے ہی دن وہ کام پر چلی گئی تھیں کیونکہ ان کے گھر کے معاشی معاملات ان ہی کے کام سے چلتے تھے۔ عدت مکمل نہ کرنے کے سوال پر انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان کی مجبوری معاشی حالات تھے امبر خان کے انکشافات سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئے ہیں، جہاں بہت سے صارفین نے ان کی ہمت اور سچ بولنے کے جذبے کو سراہا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔